قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے داخلہ نے ایف سی تنظیم نو بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، جو ملکی مفاد میں بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی کمیٹی نے فرنٹئیرکانسٹیبلری کی تنظیم نو کابل منظورکرلیا۔ یہ فیصلہ چیئرمین راجا خرم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ہوا، جس کا واحد ایجنڈا فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنظیم نو کا بل تھا۔\n\nکمانڈنٹ ایف سی نے بریفنگ میں بتایا کہ یہ فورس 1913 میں قائم کی گئی تھی اور 1915 میں اس کا ایکٹ بنایا گیا تھا۔ ایف سی کی مجموعی نفری 2756 ہے، جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 24 ہزار نفری کو فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔\n\nوزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودری نے کہا کہ یہ بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش ہو چکا ہے اور یہ آرڈیننس کے ذریعے چل رہا تھا، جس کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ بل کو آج ہی پاس کر دیا جائے۔\n\nووٹنگ کے بعد کمیٹی نے کثرت رائے سے بل منظور کر لیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ آئین سازی پارلیمنٹ کا حق ہے اور یہ قانون ملکی مفاد میں بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر کوئی بھی ترمیم پاس نہیں ہو سکتی اور تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی کوشش کی جا رہی ہے۔











