پاکستانی بینکاری: سیٹھ کی موجیں، صارف کی خواری

پاکستانی بینکاری: سیٹھ کی موجیں، صارف کی خواری

میاں محمد منشا نے کبھی مسلم کمرشل بینک میں سرمایہ کاری کو اپنی بڑی کاروباری  غلطی قرار دیا تھا۔ لیکن ان کی یہی ’’غلطی‘‘ آج پاکستان کے بڑے اور منافع بخش بینکوں میں تبدیل ہو کر گزشتہ 2 برس میں 100 ارب روپے سے کہیں زیادہ خالص منافع کما چکی ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ اگر یہ کاروباری غلطی تھی تو کامیاب سرمایہ کاری کسے کہیں گے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ جس بینک کے شئیر ہولڈراربوں میں کمائیں، اس بینک  کا صارف اپنی ہی جمع پونجی اور بنیادی بینکاری سہولتوں تک رسائی کے لیے دنوں انتظار کیوں کرے؟

یہ کہانی صارفین کی ناکام اے ٹی ایم ٹرانزیکشنز اور سروسز کی عدم دستیابی سے کہیں بڑی ہے۔ اس کے ایک کونے پر پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہونے والا نشاط گروپ، نجکاری سے حاصل ہونے والا بینک اور اربوں روپے کا سالانہ منافع ہے۔ دوسرے سرے پر وہ صارف ہے جس کے اکاؤنٹ سے اس کی جمع پونجی تو چند سیکنڈ میں بینک کا سسٹم  غائب کر سکتا ہے ، مگر رقم اس کے ہاتھ میں آنے کے بجائے 6 دن نظام میں کہیں پھنسی رہی۔

تو پھر اصل سوال یہی ہے:

 جدید بینکاری میں نظام کے تعطل کی قیمت کسے ادا کرنی چاہئے۔بینک  کو یا صارف کو؟

سرمایہ کاری کی ’’غلطی‘‘ ، جس نے میاں منشا کو کاروباری عروج دیا؟

میاں محمد منشا کی کاروباری کہانی میں مسلم کمرشل بنک محض ایک بینک نہیں۔ یہ اس دور کی علامت بھی ہے جب پاکستان میں سرکاری کاروباری اداروں کی نجکاری  کے نام پر بندر بانٹ نے نجی صنعتی گروپوں کے لیے مال بنانے کے نئے مواقع پیدا کیے۔

معروف صحافی شاہد الرحمٰن نے اپنی کتاب ’’Who Owns Pakistan‘‘  میں نشاط گروپ کو پاکستان کے بڑے صنعتی اور مالیاتی گروپوں میں شمار کیا۔ یہ کتاب جس دور کی تصویر پیش کرتی ہے، اس وقت گروپ کے اثاثے تقریباً 192 ارب روپے بتائے گئے تھے اور میاں محمد منشا 45 کمپنیوں کے بورڈز سے وابستہ تھے۔ مصنف کے مطابق 1970 کی دہائی میں امیر کاروباری خاندانوں کی فہرست میں 15ویں مقام سے شروع ہونے والا منشا خاندان پہلے چھٹے اور پھر سب سے اوپر جا پہنچا۔

خود میاں منشا بھی اپنی کاروباری کامیابی میں قسمت کے کردار کا ذکر کرچکے ہیں۔ 1990 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ کاروبار میں انہیں کئی خوش قسمت مواقع ملے اور قسمت ان کے ساتھ رہی۔

پھر 1991 آیا اور ان کی قسمت کا راز دنیا پر افشا ہو گیا کہ خوش  قسمتی   سے اصل مراد  ایک طاقتور سیاسی خاندان سے دوستی تھی۔

1991کی نجکاری: مسلم کمرشل بینک   نے میاں منشاء کو کیسے مالدار ترین شخص بنا دیا؟

نواز شریف کی پہلی حکومت آنے کے چند ہفتوں بعد مسلم کمرشل بینک کی نجکاری ہوئی۔ بینک نیشنل گروپ کو فروخت کیا گیا، جس کی قیادت میاں منشا کررہے تھے۔ ’’Who Owns Pakistan‘‘  میں اس حکومت کے قیام کو  منشا خاندان کے کاروباری عروج  کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔

یہ صرف ایک بینک  خریدنے کا معاملہ نہیں تھا۔ اس بینک کو ہتھیانے سےیہ  صنعتی گروپ سرمایہ، قرض، مالیاتی منڈی اور کاروباری توسیع کے ایسے نظام کے قریب  چلا گیا  جس کی معاشی طاقت عام صنعت سے مختلف تھی ۔

اسی لیے مسلم کمرشل بینک کی نجکاری پاکستان کی نجکاری کی تاریخ کا بھی اہم باب ہے اور نشاط گروپ کی کاروباری تاریخ کا بھی۔

100 ارب روپے سے زیادہ منافع، مگر صارف کو اپنی رقم کی ضمانت کیوں نہیں؟

مسلم کمرشل بینک آج ایک انتہائی منافع بخش مالیاتی ادارہ ہے۔ اس کے حالیہ مالی  اعداد و شمار  بتاتے ہیں کہ بینک نے 2024 اور 2025 میں مجموعی طور پر 100 ارب روپے سے زیادہ خالص منافع کمایا۔

لیکن اس سارے قصے میں خواری منشا خاندان کے حصے میں  نہیں بلکہ اس بینک کے صارفین کا مقدر ٹھہری ۔ شئیر ہولڈر  کے لیے بینک کی قدر منافع، ڈیویڈنڈ اور حصص کی قیمت سے ناپی جاسکتی ہے جب کہ صارف کے لیے اس بینک کی قدر صرف ایک چیز سے طے ہو گی یعنی ضرورت کے وقت کیا وہ اس بینک میں جمع کروائی  اپنی رقم استعمال کرسکتا ہے؟

حالیہ دنوں میں صارفین کو مسلم کمرشل بینک  کی ڈیجیٹل اور متعلقہ بینکاری خدمات کے حوالے سے  چھ سات  دن مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران بینک  کے اے ٹی ایم  سے میں نے  20,000 روپے کی 2 ٹرانزیکشنز کیں۔دونوں ٹرانزیکشنز میں اکاؤنٹ سے رقم منہا ہوگئی۔ موبائل فون پر مجموعی طور پر 40,000 روپے  کی کامیاب ٹرانزیکشن کے پیغامات بھی آگئے مگر اصرف ایک چیز نہیں آئی اور وہ تھی  میریرقم۔

یہ جدید بینکاری کا دلچسپ تضاد ہے۔ نظام اتنا خراب نہیں تھا کہ میرے اکاؤنٹ تک نہ پہنچ سکے۔ اسے معلوم تھا کہ رقم موجود ہے۔ وہ 40,000 روپے منہا کرسکتا تھا۔ کامیاب ادائیگی کا پیغام بھی بھیج سکتا تھا۔ لیکن عین اس مقام پر نظام ناکام ہوگیا جہاں مشین کو نوٹ صارف کے ہاتھ میں دینے تھے۔

یعنی بینک کو فائدہ پہنچانے والا سسٹم چل رہا تھا مگر صارف کو خواری سے بچانے والے نظام  میں  اپ گریڈیشن چل رہی تھی۔

 اکاؤنٹ سے رقم نکل گئی، اے ٹی ایم سے کیوں نہیں نکلی؟

اے ٹی ایم سے رقم نکالنا بظاہر چند سیکنڈ کا ایک عمل ہے، لیکن پس منظر میں کئی نظام ایک دوسرے سے رابطہ کررہے ہوتے ہیں۔ مشین کارڈ  سے صارف کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل  لیتی ہے، شناخت کی تصدیق ہوتی ہے، بینک کے مرکزی نظام سے اجازت مانگی جاتی ہے، اکاؤنٹ میں موجود رقم دیکھی جاتی ہے، رقم منہا ہوتی ہے اور پھر اے ٹی ایم کو نوٹ ادا کرنے ہوتے ہیں۔

اگر آخری مرحلے میں مشین، رابطے یا نظام میں خرابی آجائے تو اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن مکمل دکھائی دے سکتی ہے، مگر صارف کو نقد رقم نہیں ملتی۔

ایسی ناکام ٹرانزیکشن کی بعد میں اے ٹی ایم اور بینک کے ریکارڈ سے پڑتال کی جاسکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا تکنیکی طور پر کیسے ممکن ہے۔ پیچیدہ مالیاتی نظاموں میں خرابی ہوسکتی ہے۔

اصل سوال ہے: صارف کو اپنی رقم واپس لینے کے لیے کتنی دیر انتظار کرنا چاہیے؟

مسلم کمرشل بینک کے مطابق رقم واپسی کا یہ دورانیہ   تقریباً  6 دن سے کئی ہفتوں تک طویل ہو سکتا ہے۔

رقم واپس آگئی، لیکن 6 دن کون واپس کرے گا؟

ایک دوست نے اسٹیٹ بینک کی سنوائی ایپ کے بارے میں بتایا۔ وہاں شکایت درج کرنے کے بعد بالآخر 40 ہزار روپے اکاؤنٹ میں واپس آگئے۔حساب کتاب کے اعتبار سے معاملہ ختم۔40ہزار  روپے نکلے تھے جو  واپس آگئے۔

لیکن بینکاری صرف ڈیبٹ اور کریڈٹ کے حساب کو  برابر کرنے کا نام نہیں۔ سوال ان 6 دنوں کا بھی ہے جن میں صارف اپنی ہی رقم استعمال نہیں کرسکا۔

اگر یہ رقم کسی اسپتال میں دینی ہوتی؟ گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا؟ سفر کے دوران ضرورت پڑتی؟ کسی چھوٹے کاروبار کی ادائیگی کی آخری تاریخ ہوتی؟

6 دن بعد رقم واپس ملنے سے 6 دن پہلے کی ضرورت واپس نہیں آتی۔

یہی وہ پوشیدہ قیمت ہے جو بینک کے کھاتے میں دکھائی نہیں دیتی، مگر صارف ادا کرتا ہے۔

انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن یا ناقابلِ اعتماد نظام

دنیا کے ہر بڑے بینک کو اپنے تکنیکی نظام اپ گریڈ کرنا پڑتے ہیں۔ سرور تبدیل ہوتے ہیں، سافٹ ویئر بہتر کیے جاتے ہیں، سائبر سکیورٹی مضبوط کی جاتی ہے اور بعض اوقات منصوبہ بند دیکھ بھال کے لیے خدمات عارضی طور پر روکنا بھی پڑتی ہیں۔

اس لیے اعتراض اپ گریڈیشن پر نہیں۔

سوال اس کی منصوبہ بندی اور کاروباری تسلسل پر ہے۔

جدید مالیاتی ادارے اسی لیے متبادل نظام، بیک اپ، ہنگامی بحالی اور مرحلہ وار منتقلی کے منصوبے رکھتے ہیں کہ ایک نظام میں تبدیلی سے پورا صارف تجربہ مفلوج نہ ہوجائے۔

کسی اپ گریڈیشن کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ نیا نظام آخرکار چل پڑا۔ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس دوران کتنے صارف متاثر ہوئے، کتنی ٹرانزیکشنز ناکام ہوئیں، کتنی دیر خدمات متاثر رہیں اور صارفین کو متبادل راستہ کتنی جلد فراہم کیا گیا۔

یہ تکنیکی سوال سے زیادہ انتظامی سوال ہے۔

بینک میں ٹیکنالوجی کا مسئلہ انتظامی مسئلہ بن جائے

مسلم کمرشل بینک کے ڈیجیٹل نظام کی خرابیوں کو صرف مشینوں اور سافٹ ویئر تک محدود کرکے دیکھنا بھی  اسے سارے قصے کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا۔ 2022 کے بعد بینک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اعلیٰ قیادت بار بار تبدیل ہوئی اور چند برس میں 4 چیف انفارمیشن آفیسر اور آئی ٹی  ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تبدیل ہوئے، جبکہ ابھی  ایک اور تقرری کا انتظار ہے۔

کسی بڑے بینک میں اتنی تیزی سے تکنیکی قیادت بدلنے سے طویل مدتی منصوبہ بندی، نظام کی اپ گریڈیشن اور جواب دہی میں تسلسل کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، اگرچہ صرف اسی بنیاد پر موجودہ خرابیوں کا سبب ان تبدیلیوں کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوجاتا ہے جب اہم تکنیکی عہدوں پر تقرریوں کے بارے میں اہلیت کے ساتھ تعلقات اور اثرورسوخ کے سوال بھی اٹھیں۔

اگر کسی درمیانے درجے کی قابلیت  کے حامل  افسر کو محض اس لیے غیر معمولی اہمیت ملے کہ وہ کسی طاقتور وفاقی وزیر کا سسرالی رشتہ دار اور انتظامیہ کا ’’لاڈلا‘‘ سمجھا جاتا ہے تو سوال شخص کا نہیں رہتا،  بلکہ ایک  عوامی خدمات کے ادارے کو چلانے والی سیٹھ ذہنیت کا بن جاتا ہے: اربوں روپے کے منافع اور لاکھوں صارفین کی رقم سنبھالنے والے بینک میں آئی ٹی قیادت کا معیار قابلیت اور کارکردگی ہے یا سیٹھ کی پسند؟

فیس پورے سال کی تو سروس کتنے دن کی؟

یہاں صارف اور بینک کے تعلق کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ MCB ڈیبٹ کارڈ سمیت مختلف بینکاری خدمات کے لیے فیس اور چارجز وصول کرتا ہے۔ بینک کے شیڈول آف چارجز میں ان خدمات کی قیمتیں باقاعدہ درج ہوتی ہیں۔

صارف یہ فیس کسی خیالی  سہولت کے لیے نہیں دیتا۔ وہ ایک قابل استعمال کارڈ، اے ٹی ایم نیٹ ورک اور ڈیجیٹل بینکاری تک رسائی خرید رہا ہوتا ہے۔

اس لیے سوال بہت سادہ ہے۔ اگر ڈیبٹ کارڈ کی سالانہ فیس 365 دن کے لیے ہے اور خدمات کئی دن دستیاب یا قابل اعتماد نہیں رہتیں تو اس تعطل کی قیمت کس کے حصے میں آئے گی؟

عملاً جواب اکثر یہی ہے: صارف کے۔

بینک اپنی پوری فیس رکھتا ہے، مگر صارف کو ضائع ہونے والے وقت، ناکام ادائیگی یا رقم تک عارضی عدم رسائی کا کوئی حساب نہیں ملتا۔

پاکستانی بینکاری کے نظام میں اسٹیٹ بنک کا کردار کتنا مؤثر ہے؟

یہاں اسٹیٹ بینک کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں تجارتی بینکوں کے لیے ٹیکنالوجی، کاروباری تسلسل، صارف تحفظ اور شکایات کے ازالے سے متعلق ضابطے موجود ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مالیاتی ادارے تکنیکی خطرات کا انتظام کریں اور خرابی کی صورت میں اہم خدمات بحال رکھنے کی صلاحیت رکھیں۔

ریگولیٹر سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کسی بینک کا نظام کبھی خراب ہی نہ ہو۔ ایسا دنیا میں کہیں ممکن نہیں۔

لیکن ریگولیٹر یہ ضرور دیکھ سکتا ہے کہ خرابی کتنی بار ہوئی، کتنی دیر جاری رہی، کتنے صارف متاثر ہوئے، کتنی مالی ٹرانزیکشنز ناکام ہوئیں اور بینک نے مسئلے کے بعد کیا اصلاحی اقدامات کیے۔

بینک کے  اربوں کے منافع میں ٹیکنالوجی اور بیک اپ کا حصہ کتنا ہے؟

یہاں دوبارہ مسلم کمرشل  بنک  کے منافع کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ منافع بخش بینک کا نظام کبھی خراب نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے بڑے بینکوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نظام بھی بند ہوتے ہیں۔

مگر منافع ایک دوسرا سوال ضرور پیدا کرتا ہے: ادارہ اپنی بنیادی ٹیکنالوجی، متبادل نظام، ماہر افرادی قوت اور کاروباری تسلسل پر کتنی سرمایہ کاری کررہا ہے؟

اگر ایک بینک ہر سال دسیوں ارب روپے منافع کما رہا ہو تو صارف کی توقع بھی اسی پیمانے پر بڑھتی ہے۔ اسے صرف خوبصورت موبائل ایپ نہیں چاہیے۔ اسے ایسا نظام چاہیے جو اس وقت بھی کام کرے جب اسے واقعی اپنے پیسوں کی ضرورت ہو۔

بینک کے لیے ڈیجیٹل نظام اخراجات کم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایپ پر ہونے والی ٹرانزیکشن کے لیے ہر بار برانچ، کاؤنٹر اور ملازم درکار نہیں۔ لیکن اگر اسی بچت کا نتیجہ کمزور یا ناقابل اعتماد بنیادی ڈھانچے کی صورت میں نکلے تو فائدہ بینک کا اور خواری صارف کی ہوجاتی ہے۔

    بینک نجی ،مگر اس کی ناکامی صرف نجی معاملہ کیوں نہیں؟

مسلم کمرشل بینک کی 1991 کی نجکاری سے آج تک ایک بنیادی تبدیلی آچکی ہے۔ اس وقت بینک کی کارکردگی کو برانچوں، قرضوں، کھاتوں اور منافع سے دیکھا جاتا تھا۔ آج بینک ایک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ بھی ہے۔

لوگوں کی تنخواہیں اس میں آتی ہیں۔ کاروباری ادائیگیاں اس سے ہوتی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بل، آن لائن خریداری، فیس، علاج اور روزمرہ لین دین اسی نظام سے جڑے ہیں۔

اسی لیے کسی بڑے بینک کی مسلسل تکنیکی ناکامی صرف کمپنی اور اس کے صارف کے درمیان معاملہ نہیں رہتی۔

یہ مالیاتی نظام میں اعتماد کا سوال بن جاتی ہے۔

اور اعتماد کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ کی رقم بینک میں محفوظ ہے۔

اعتماد کا مطلب یہ بھی ہے کہ جب آپ کو اپنی رقم چاہیے تو وہ آپ کو مل سکے۔

آخر عالمِ نشاط کس کا ہے اور انتظار کس کے حصے میں آتا ہے؟

یہیں میاں منشا کا وہ پرانا جملہ دوبارہ یاد آتا ہے۔جس میں انہوں نے مسلم کمرشل بینک میں  اپنی سرمایہ کاری کو اپنی بڑی کاروباری غلطیوں میں شمار کیا، وہ آج ہر سال دسیوں ارب روپے خالص منافع کما رہا ہے۔

مگر اس کے مقابلے میں صارف  کی ان سے ڈیمانڈ تو بہت کم ہے۔اسے نشاط گروپ کے منافع میں حصہ نہیں چاہیے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کرسی نہیں چاہیے۔ اسے یہ بھی اعتراض نہیں کہ بینک اپنے شئیر ہولڈرز کو اتنا منافع کیوں دے رہا ہے ۔

بینک صارف تو صرف یہ  چاہتا ہے کہ جس کارڈ کی فیس اس نے ادا کی ہے وہ ضرورت کے وقت کام کرے۔ جس اے ٹی ایم میں کارڈ ڈالے وہ اکاؤنٹ سے رقم کاٹنے کے بعد نوٹ بھی دے۔ اور اگر نظام خراب ہوجائے تو اس خرابی کا پورا مالی اور وقتی بوجھ اس کے کھاتے میں نہ ڈال دیا جائے۔

میاں منشا نے کہا تھا کہ قسمت ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ یقیناً کاروبار میں قسمت اہم ہوسکتی ہے۔مگر پاکستان میں بینکاری قسمت پر نہیں چلنی چاہیے۔

صارف کو اے ٹی ایم میں کارڈ ڈالتے ہوئے یہ دعا نہیں کرنی چاہیے کہ آج شاید اس کی قسمت بھی میاں منشا جیسی نکل آئے اور اکاؤنٹ سے کٹنے والی رقم مشین سے باہر بھی آجائے اور شاید اسی دعا کی قبولیت کا  دوسرا نام عالمِ نشاط ہے۔

 

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔