خیبر پختونخوا اسمبلی یا ”بلو دا گھر“

خیبر پختونخوا اسمبلی یا ”بلو دا گھر“

”دھو کے نہا کے،
چنگے بچے بن کے،
جیل شیل لا کے،
کنگھی شنگھی واہ کے،
شیشے مورے بہہ کے،
ذرا دیر لگا کے،
نالے کالی اکھیاں اچ سرمہ پا کے،
اساں تے جانا اے بلو دے گھر“

تحریک انصاف کے سابق رہنما اور معروف گلوکارابرار الحق نے یہ گانا شاید کسی شوخ مزاج نوجوان کے لیے گایا تھا، مگر خیبر پختونخوا کی حالیہ سیاست دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ گانا اب صوبائی اسمبلی کے بعض معزز اراکین اور وزرا کے روزمرہ سیاسی طرزِ عمل کا عملی نمونہ بن چکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گانے والا کردار کم از کم یہ مانتا تھا کہ وہ ”بلو دے گھر“ جا رہا ہے، جب کہ ہمارے صوبائی وزیر اور معزز اراکین پاسپورٹ، اہم شخصیات کے لیے مخصوص انتظار گاہوں یعنی وی آئی پی لاؤنجز (VIP lounges)، کالے شیشوں، اسلحہ لائسنس، استحقاق، جرمانوں اور صحافیوں کے خلاف پابندیوں کی کنگھی شنگھی کر نے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔

جب کہ  کچھ کردار تو یوں لگتے ہیں جیسے اسمبلی سے  منظور کردہ قانون پڑھنے سے پہلے بالوں پر جیل شیل لگانے کا فریضہ زیادہ سنجیدگی سے ادا کرتے ہیں؛ مگر جب عوام نے پوچھا کہ حضور یہ تیاری کس لیے ہے؟ تو جواب آیا: ”ہم تو گئے ہی نہیں، اپوزیشن ہمیں لے گئی تھی۔“

یہ تحریر لکھنے کی وجہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا متنازعہ استحقاق قانون ضرور ہے، مگر اصل وجہ اس قانون پر ہونے والی وہ ٹی وی گفتگو ہے جس میں سینئر صحافی عامر متین نے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کو اس قانون کی مختلف شقوں کے حوالے دے کر سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ معاملہ صرف مراعات کا نہیں، آئینی توازن، صحافتی آزادی اور تحریک انصاف کے اپنے بنیادی سیاسی فلسفے کا سوال ہے۔ دوسری طرف شفیع جان صاحب پہلے دفاع، پھر تردید، پھر وضاحت، پھر اپوزیشن پر ذمہ داری، پھر عوامی مینڈیٹ، اور آخر میں ”دوبارہ جائزہ“ یعنی ری وزٹ (review) کی پناہ گاہ میں جاتے دکھائی دیے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی نے 30 اپریل 2026 کو صوبائی اسمبلی کے اختیار، تحفظات اور مراعات  کا قانون 2026 (Provincial Assembly Powers, Immunities and Privileges Act, 2026) منظور کیا ، جو 6 مئی کو گورنر فیصل کریم کنڈی  نے منظور بھی کر لیا۔ یہ قانون گورنر کی منظوری کے بعد بھی کچھ عرصہ اسمبلی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں ہوا، حالانکہ اس  کے ذریعے 1988 کے سابقہ قانون کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

عامر متین نے گفتگو میں یہی نکتہ اٹھایا کہ مسئلہ صرف ایک نیلے پاسپورٹ کا نہیں بلکہ ان سہولیات کی فہرست ذرا طویل ہے۔ جن میں ارکان اسمبلی اور ان کے شریکِ حیات کے لیے سرکاری نیلا پاسپورٹ یعنی بلیو پاسپورٹ (blue passport)، سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور لاجز میں مفت قیام، اہم شخصیات کے لیے مخصوص انتظار گاہیں یعنی وی آئی پی لاؤنجز، محصولِ راہ یعنی ٹول ٹیکس (toll tax) سے استثنیٰ، کالے شیشوں والی گاڑیاں، خصوصی نمبر پلیٹس، کلبز کی سہولتیں اور اسلحہ لائسنس شامل ہیں۔ یہ سب وہی مراعات  ہیں جنہیں کبھی تحریک انصاف وی آئی پی کلچر قرار دیتی تھی۔ اصل سوال یہ تھا کہ تبدیلی کے دعویداروں کے ہاتھ میں اب اسی کلچر کا میک اَپ باکس کیوں ہے؟

عامر متین نے شفیع جان کو یاد دلایا کہ عمران خان نے اپنے ابتدائی دور میں سرکاری ریسٹ ہاؤسز کے استعمال پر ادائیگی کی روایت ڈالی تھی اور یہ پیغام دیا تھا کہ حکمران طبقہ ریاستی سہولتوں کو ذاتی جاگیر نہ سمجھے۔ اسی لیے جب خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے دور میں ارکان اسمبلی، ان کی بیگمات، پاسپورٹ، لاجز، وی آئی پی لاؤنجز، کالے شیشوں یعنی ٹنٹڈ گلاسز (tinted glasses) اور خصوصی تحفظات کی کنگھی شنگھی قانون کی زبان میں سجائی جائے تو سوال صرف ”یہ شق کس نے شامل کی؟“ کا نہیں رہتا؛ سوال یہ بنتا ہے کہ تبدیلی کے دعویدار خود پرانے وی آئی پی کلچر کے نئے وارث کیسے بن گئے؟ باقی جماعتیں مراعات لیں تو وہ روایتی اشرافیہ کی سیاست کہلائے گی، مگر تحریک انصاف یہی کرے تو اسے عوام ”بلو دے گھر“ جانے سے پہلے لگایا گیا نیا سرمہ ہی سمجھیں گے۔

شفیع جان صاحب کا دفاع بھی اپنی جگہ ایک سیاسی لوک داستان تھا۔ پہلے فرمایا کابینہ کے سامنے جو مسودہ آیا اس میں بچوں، شریکِ حیات یا تاحیات بلیو پاسپورٹ کی بات نہیں تھی۔ پھر کہا اپوزیشن کے احمد کنڈی نے ترمیم دی، وہ ایوان سے منظور ہو گئی۔ گویا کابینہ معصوم، حکومت بے خبر، اسمبلی مجبور، اپوزیشن شرارتی، اور قانون خود بخود سرکاری گزٹ میں چھپ گیا۔ ایک موقع پر جب پوچھا گیا کہ یہ اپوزیشن کے ووٹوں سے پاس ہوا یا تحریک انصاف کے اراکین نے بھی ووٹ دیا، تو شفیع جان صاحب نے فرمایا کہ ”ووٹنگ نہیں ہوئی، یس اور نو سے پاس ہوا۔“

شفیع جان کا یہ جواب ایسا مضحکہ خیر ہے کہ اس پر ابرار الحق کوشاید ایک نیا گانا لکھنا چاہئے ۔شفیع جان کو شاید اس بنیادی بات کا ہی پتا نہیں کہ پارلیمانی نظام میں ”ہاں“ اور ”نہیں“ بھی ووٹ ہی ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپنے ضابطہ کار 2025 میں ووٹنگ کا طریقہ کار موجود ہے، اور اسمبلی کی کارروائی میں سوال پر آوازوں کے ذریعے ”حامی“ اور ”مخالف“ یعنی آئیز اینڈ نوز (ayes and noes) سے فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی 30 اپریل 2026 کی نشست کا ریکارڈ بھی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس لیے ”ہم نے ووٹ نہیں دیا، صرف ہاں کہا“ بالکل ایسا ہی دفاع ہے جیسے کوئی کہے کہ میں نے نکاح نہیں کیا، بس قبول ہے کہا تھا۔

عامر متین نے گفتگو میں ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہوئےشفیع جان کو یاد دلایا کہ پارلیمانی رپورٹنگ کا ان کا تجربہ تحریک انصاف کی بطور جماعت عمر سے بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 25 سال پارلیمنٹ کی روزانہ رپورٹنگ کی، 40 سے 45 سال صحافت کی، مگر اس نوعیت کی قدغنیں کبھی نہیں دیکھیں۔ اس جملے میں طنز بھی تھا، تجربے کا وزن بھی، اور ایک سینئر پارلیمانی رپورٹر کی تشویش بھی۔ شفیع جان بار بار پنجاب، سندھ اور 1988 کے قانون کا حوالہ دیتے رہے، مگر عامر متین کا بنیادی سوال یہی تھا کہ آپ ماضی کی خرابیوں کو مثال بنا رہے ہیں یا انہیں درست کرنے آئے تھے؟

اس بحث کا سب سے سنگین پہلو صحافیوں اور ناقدین کے خلاف کارروائی سے متعلق تھا۔ 1988 کے قانون میں بھی اسمبلی کارروائی کی درست، دیانت دار اور منصفانہ رپورٹنگ کو تحفظ حاصل تھا، جب کہ جھوٹی، بدنیتی پر مبنی یا توہین آمیز اشاعت پر پابندی کی گنجائش موجود تھی۔ اسی قانون میں ناشر، مدیر یا اخبار سے وابستہ افراد کو اسمبلی کارروائی کی درست رپورٹنگ اور منصفانہ تبصرے یعنی فیئر کمنٹس (fair comments) پر قانونی کارروائی سے تحفظ بھی دیا گیا تھا۔ مگر نئے قانون میں جب جرمانوں، سزاؤں اور اسمبلی کمیٹی کے اختیارات کو بڑھایا گیا تو معاملہ صرف ”غلط رپورٹنگ“ کا نہیں رہا، بلکہ صحافتی آزادی کے دائرے کو خوف کے ذریعے محدود کرنے کا تاثر پیدا ہوا۔

عامر متین نے اسی لیے شفیع جان کو قانون کی عبارت پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے خاص طور پر شق 32 کا حوالہ دیا جس میں اسمبلی یا اس کی مجاز کمیٹی کو جرائم یعنی آفنسز (offences) کی سماعت اور سزا دینے کا اختیار دیا گیا، اور سزا کو جیوڈیشل مجسٹریٹ یعنی عدالتی مجسٹریٹ کے حکم کی طرح نافذ کرانے کی بات کی گئی۔ عامر متین نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اسمبلی قانون بنا سکتی ہے، استحقاق کا تحفظ کر سکتی ہے، کسی معاملے کو متعلقہ ادارے یا عدالت کو بھیج سکتی ہے، مگر وہ خود مدعی، خود جج، خود جیوری اور خود سزا دینے والی اتھارٹی نہیں بن سکتی۔ یہی آئینی مسئلہ ہے۔

شفیع جان صاحب کا جواب بھی قابلِ غور تھا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، پھر کہا کہ اگر ایسی کوئی شق ہے تو اسے دوبارہ دیکھ لیا جائے گا۔ گویا قانون پاس ہو گیا، گورنر سے منظور ہو گیا، سرکاری گزٹ میں چلا گیا، مگر وزیر اطلاعات کو اس کی سنگینی کا احساس شاید تب بھی نہ ہوا جب ٹی وی پروگرام میں عامر متین نے انہیں شق پڑھ کر سنائی۔

استحقاق کمیٹی کا اصل مقصد ارکان اسمبلی کو عوامی مفاد میں آزادانہ اظہار کا تحفظ دینا ہے۔ یہ اختیار اس لیے نہیں ہوتا کہ منتخب نمائندہ اپنی تنقید سے بچنے کے لیے صحافی، سرکاری افسر یا شہری ناقد کو کٹہرے میں کھڑا کر دے۔ اگر اسمبلی اپنی ہی شکایت پر خود سماعت کرے، خود سزا دے، اور پھر اس سزا کو عدالتی حکم کی طرح نافذ کرائے تو یہ اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول سے ٹکراتا ہے۔ جمہوری نظام میں مقننہ قانون بناتی ہے، انتظامیہ عمل کراتی ہے، عدلیہ سزا دیتی ہے۔ اگر اسمبلی یہ تینوں کام خود کرنے لگے تو پھر اسے اسمبلی نہیں، ”بلو دا گھر“ کا سجا سجایا دربار کہنا زیادہ مناسب ہو گا اور یہ قانون سازی نہیں، ”کنگھی شنگھی“ قانون نویسی ہے۔

یہاں ایک اور تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ شفیع جان بار بار کہتے رہے کہ تحریک انصاف عوامی ووٹ سے آئی ہے، فارم 47 سے نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست یا سیاسی طور پر قابلِ بحث ہو سکتی ہے، مگر عوامی ووٹ کا مطلب عوامی جوابدہی بھی ہے۔ اگر آپ عوام کے ووٹ سے آئے ہیں تو آپ کو عوام کے سامنے جواب بھی دینا ہو گا۔ ووٹ عزت دیتا ہے، مگر وہ چیک بھی رکھتا ہے۔ عوامی مینڈیٹ پاسپورٹ کی قطار سے بچنے کا اجازت نامہ نہیں، بلکہ عوام کی قطار میں کھڑے ہونے کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی عجیب ہے کہ جس وقت خیبر پختونخوا دہشت گردی، معاشی دباؤ، بے روزگاری، کمزور بلدیاتی نظام، صحت و تعلیم کے مسائل  سے دوچار ہے ، اس وقت اسمبلی اراکین کی  ساری توانائی مراعات، استحقاق، پاسپورٹ، لاؤنجز، کالے شیشوں، اسلحہ لائسنس اور صحافیوں کے جرمانوں کی جانب مبذول ہے۔ عوام کو پولیس کی حفاظت، ہسپتال کی دوا، سکول کا استاد، سڑک کی مرمت اور انصاف کی رفتار چاہیے۔ مگر اسمبلی کے بعض کردار یوں لگتا ہے جیسے ”دھو کے نہا کے، جیل شیل لا کے، کنگھی شنگھی واہ کے“ کسی اور ہی منزل کو نکلے ہوئے ہیں۔

عامر متین اور شفیع جان کے مکالمے نے اس قانون کی اصل خامی بے نقاب کر دی۔ خامی صرف متن میں نہیں،اس ذہنیت میں ہے۔جس کے تحت پہلے قانون پاس کیا گیا۔ پھر کہا گیا کہ یہ پرانے قانون جیسا ہی ہے۔ پھر کہا گیا کہ اپوزیشن نے ترمیم دی۔ پھر کہا گیا کہ ووٹنگ نہیں ہوئی۔ پھر کہا گیا کہ اگر کچھ غلط ہے تو دوبارہ دیکھ لیں گے۔ یہی وہ سیاست ہے جس میں ذمہ داری ہمیشہ کسی اور کے سر جاتی ہے، مگر فائدہ اپنے نام رہتا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عوامی اور صحافتی ردعمل کے بعد متنازعہ شقوں پر نظرثانی کی ہدایت دی ہے۔ یہ قدم مثبت ہے، مگر کافی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا حکومت اس قانون کے ذریعے بننے والی وی آئی پی دیوار گراتی ہے یا صرف اس پر نیا رنگ کرتی ہے؟ کیا صحافیوں کے خلاف سخت شقیں واپس لی جاتی ہیں یا انہیں نرم الفاظ میں دوبارہ شامل کر دیا جاتا ہے؟ کیا استحقاق کو عوامی مفاد تک محدود کیا جاتا ہے یا اسے نمائندوں کی ذاتی ڈھال بنا دیا جاتا ہے؟

تحریک انصاف کے لیے یہ معاملہ ایک قانون سے بڑھ کر ہے۔ یہ اس کی سیاسی شناخت کا امتحان ہے۔ اگر جماعت واقعی وی آئی پی کلچر کے خلاف ہے تو اسے اپنے صوبے میں پہلے اپنے اراکین کے لیے وی آئی پی کلچر کی نمائندہ خصوصی مراعات ختم کرنا ہوں گی۔ اگر وہ آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے تو صحافیوں کو جرمانوں، سزاؤں اور کمیٹیوں کے خوف سے آزاد رکھنا ہو گا۔ اگر وہ عوامی سیاست کی دعویدار ہے تو اسے عوامی خدمت کو مراعات پر ترجیح دینی ہو گی۔

آخر میں صوبائی کابینہ کے نام بس یہی عرض ہے: سرمہ ضرور لگائیں، کنگھی بھی کر لیں، جیل شیل بھی لگا لیں، مگر کبھی اپنے منظور کردہ قوانین کو خود بھی پڑھ لیا کریں۔ ہر قانون ”بلو دے گھر“ جانے جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ قوانین عوام، پریس گیلری، عدالت، ہسپتال، تھانے، سکول اور اس اعتماد تک بھی جاتے ہیں جسے ایسی قانون سازی روند ڈالتی ہے۔ اگر اس قانون کو عوامی امنگوں کے مطابق تبدیل نہ کیا گیا تو تاریخ یہی لکھے گی کہ جب صوبے کو خدمت چاہیے تھی، اس وقت کچھ لوگ شیشے مورے بہہ کے ذرا دیر لگا کے، استحقاق  اور مراعات کا سرمہ لگا رہے تھے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔