کیا گلگت بلتستان میں لنگڑا گھوڑا بیساکھیوں کے سہارے حکومت بنائے گا؟

کیا گلگت بلتستان میں لنگڑا گھوڑا بیساکھیوں کے سہارے حکومت بنائے گا؟

لنگڑا گھوڑا دوڑ کیسے جیت سکتا ہے؟ عام میدان میں یہ سوال مضحکہ خیز لگتا ہے، مگر سیاسی میدان میں کبھی کبھی یہی سوال سب سے سنجیدہ حقیقت بن جاتا ہے۔ اگر دوڑ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کی ہو، سیاسی راستے پہاڑی موڑوں جیسے ہوں، اور فیصلہ صرف عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ طاقت کے ایوانوں میں آزاد امیدواروں کی وفاداری، مخصوص نشستوں کے فارمولے اور عدالتی فیصلوں کی من چاہی تشریح سے جنم لے تو پھر انہونی بھی سیاسی امکان بن جاتی ہے۔

سیاست کے اس میدان میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک گھوڑے کی چاروں ٹانگیں بیساکھیوں پر دکھائی دیتی ہیں، مگر اسے نہ صرف دوڑ میں شامل رکھا جاتا ہے بلکہ آخر میں اسے ریکارڈ بنانے والا امیدوار قرار دے دیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی بظاہر آزاد امیدوار عوام کے ووٹ سے ملی جیت کو وقتی فوائد کے لئے کسی نادیدہ اشارے پر ایک خاص جماعت کی جھولی میں ڈال دیتا ہے، کبھی کوئی ہاری ہوئی جماعت آزاد ارکان کے ذریعے اسمبلی میں وزن بنا لیتی ہے، اور کبھی عوامی مینڈیٹ کی سیدھی لکیر سیاسی حساب کتاب کے موڑ پر یکدم مڑ جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابی نوٹیفکیشن نے بھی کچھ ایسا ہی منظر سامنے رکھا ہے، جہاں پارٹی پوزیشن واضح ہو گئی ہے مگر حکومت سازی کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخابات 2026 کی 30 نشستوں کے حتمی نتائج کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد پیپلز پارٹی سب سے آگے ہے، مسلم لیگ ن فیصلہ کن مذاکراتی حیثیت رکھتی ہے، استحکام پاکستان پارٹی شکست کے باوجود اسمبلی میں موجود ہے، ایم ڈبلیو ایم کے پاس اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا آپشن موجود ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیپلز پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اس میں 9 جنرل نشستیں، 3 خواتین کی مخصوص نشستیں اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست شامل ہے۔ مسلم لیگ ن کو 9 نشستیں ملی ہیں، جن میں 6 جنرل نشستیں، 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست شامل ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے حصے میں 6 نشستیں آئی ہیں، جن میں 4 جنرل نشستیں، ایک خاتون کی مخصوص نشست اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست شامل ہے۔ مجلس وحدت مسلمین اور ایک آزاد امیدوار کو ایک، ایک نشست ملی ہے۔ تین جنرل نشستوں کے نتائج سپریم ایپلیٹ کورٹ کے حکم پر موخر ہیں۔ اس لیے موجودہ تصویر واضح ضرور ہے، مگر مکمل نہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 17 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔ پیپلز پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، مگر وہ اکیلے حکومت نہیں بنا سکتی۔ اسے کم از کم چار مزید ارکان کی حمایت چاہیے۔ اسی لیے اصل سیاست اب پولنگ اسٹیشنز سے نکل کر مذاکرات کی میز پر آ چکی ہے۔ یہاں ووٹوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ عہدوں کی تقسیم، وزارت اعلیٰ، اسپیکرکا منصب، وزارتیں، ترقیاتی وعدے اور مستقبل کی سیاسی ضمانتوں کے ساتھ ساتھ نادیدہ اشارے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن بھی میدان میں ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مل کر حکومت بناتی ہیں تو ایک مستحکم عددی اکثریت بن سکتی ہے۔ مگر اس اتحاد کی قیمت دونوں جماعتوں کو ادا کرنا ہو گی۔ پیپلز پارٹی وزارت اعلیٰ اپنے پاس رکھنا چاہے گی، جبکہ مسلم لیگ ن اپنی 9 نشستوں کے وزن کے مطابق حصہ مانگے گی۔ حفیظ الرحمن کسی علامتی کردار پر اکتفا کریں گے یا وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں آخر تک رہیں گے، یہ آنے والے دنوں کا اہم سوال ہے۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ دو جماعتی اتحاد کے بجائے تین جماعتی بندوبست سامنے آ جائے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی اگر کسی وسیع تر مفاہمت کے نام پر ایک ہی حکومت کا حصہ بن جاتی ہیں تو حکومت عددی طور پر بہت مضبوط ہو جائے گی۔ مگر ایسی صورت میں اپوزیشن تقریباً نمائشی رہ جائے گی۔ سیاسی انتظام کی یہ صورت پاکستان میں پہلی دفعہ نہیں دکھائی دے رہی۔ اس سے پہلے بلوچستان کی صوبائی حکومت میں بھی یہی صورتحال پیدا ہوئی کہ تمام ممبران مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرتے نہ صرف حکومت کا حصہ تھے بلکہ کسی نا کسی شکل میں کابینہ میں بھی شامل تھے۔ صرف ایک رکن اسمبلی یار محمد رند اپوزیشن لیڈر کے کردار میں موجود تھے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے نتائج کے بعد صورت حال یہی دکھائی دیتی ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے پاس صرف ایک نشست ہے اور وہ غالب گمان یہی کہ ہے کہ اپوزیشن کاکردار ادا کرے گی ۔

ہنزہ سے کامیاب ہونے والے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار کے بارے میں سیاسی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ پارٹی قیادت نے اس کی باگ جان بوجھ کر پیپلز پارٹی کی طرف ڈھیلی چھوڑی ہے، تاکہ مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی مل کر حکومت سازی کا کوئی متبادل فارمولا نہ بنا سکیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو صرف اپنے عددی وزن پر نہیں بلکہ مخالف اتحاد کو روکنے کے لئے مخالف جماعت سےسہولت بھی مل رہی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس ایک حمایت سے بھی پیپلز پارٹی گولڈن نمبر تک نہیں پہنچتی۔

اسی لیے ایک اور ابھی تک کسی جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہ کرنے والے امیدوار کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اگر وہ رکن اسمبلی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل جائے تو پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد 15 تک پہنچ سکتی ہے، مگر یہ عدد بھی حکومت سازی کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود اتحادی سیاست کی محتاج رہے گی۔ اسے یا تو مسلم لیگ ن کے ساتھ باضابطہ شراکت کرنی ہو گی، یا ایم ڈبلیو ایم، آزاد ارکان اور موخر نشستوں کے ممکنہ نتائج کے ذریعے اکثریت کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔

جن3 نشستوں کے نتائج سپریم ایپلیٹ کورٹ کے حکم نامےپر موخر ہیں وہ اس وقت حکومت سازی کے حساب میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ان تین میں سے دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے تھے، جبکہ ایک نشست آزاد حیثیت سے جیتنے والے ایسے امیدوار کے پاس تھی جو بعد میں استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن گیا۔ اگر عدالتی یا انتخابی کارروائی کے بعد پیپلز پارٹی ان میں سے ایک نشست بھی کھو دیتی ہے تو اس کی برتری عددی طور پر کمزور ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کے لیے حکومت سازی کا راستہ مزید مشکل ہو گا، کیونکہ ایک یا دو آزاد ارکان کی حمایت بھی اسے گولڈن نمبر تک نہیں پہنچا سکے گی۔ اسے پھر لازماً کسی دوسری بڑی جماعت، خاص طور پر مسلم لیگ ن، یا ایک وسیع تر مخلوط بندوبست کا سہارا لینا پڑے گا۔

مگر اس پورے منظرنامے میں سب سے دلچسپ اور سب سے قابل غور کردار استحکام پاکستان پارٹی کا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے 24 جنرل نشستوں میں سے 16 پر امیدوار کھڑے کیے، مگر اس کے تمام امیدوار شکست کھا گئے۔ عوام نے بیلٹ باکس میں استحکام پاکستان پارٹی کو کوئی براہ راست جنرل نشست نہیں دی۔ اس کے باوجود نوٹیفکیشن کے بعد یہی جماعت اسمبلی میں 6 نشستوں کے ساتھ موجود ہے۔ سیاست میں اسے انتخابی شکست کے بعد پارلیمانی کامیابی کہا جائے یا شکست کو” مستحکم“ جیت میں تبدیل کرنے کا فارمولہ سمجھا جائے، یہ فیصلہ قاری خود کر سکتا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی نے میدان میں کامیابی حاصل نہیں کی، مگر نتائج کے بعد آزاد امیدواروں نے اس میں وہ گوہر نایاب ڈھونڈ نکالا جو ووٹرز کو پولنگ کے دن نظر نہیں آیا۔ چار آزاد امیدوار آئی پی پی میں شامل چکے اور پانچویں امیدوار کابھی نتیجے کے اعلان ہونے کے بعد اسی جماعت کا حصہ بننے کا امکان ہے۔ ان اراکین کے شمولیت کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرتے ہوئے مخصوص نشستوں کے فارمولے کے مطابق اس جماعت کو ایک خاتون اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست بھی عطا کر دی ہے۔ یوں جس جماعت کے اپنے امیدوار انتخابی میدان میں ناکام رہے، وہ اسمبلی میں چھ نشستوں کے ساتھ موجود ہے۔ ۔ یہ جمہوری ریاضی کا وہ باب ہے جس میں صفر سے شروع ہونے والی کہانی آخر میں چھ تک پہنچ جاتی ہے۔

بنیادی سیاسی سوال یہ ہے کہ ووٹر نے آزاد امیدوار کو کسی جماعتی شناخت کے ساتھ تو ووٹ دیا نہیں اور نا ہی ووٹر نے اسے جماعتی سیاست سے الگ سمجھ کر منتخب کیا تھا؟ اگر وہی امیدوار چند روز بعد کسی جماعت میں شامل ہو جائے تو ووٹ کی اصل وقعت کیا رہ جاتی ہے؟ قانون آزاد امیدوار کو سیاسی فیصلہ کرنے کی گنجائش دیتا ہو گا، مگر سیاسی اخلاقیات اس پر سوال ضرور اٹھاتی ہے۔ ووٹر امیدوار کو ایک شناخت کے ساتھ منتخب کرتا ہے۔ بعد از انتخاب شمولیت اس شناخت کو بدل دیتی ہے۔

سب سے دلچسپ پہلو جی بی 16 دیامر سے منتخب ہونے والےسید امام مالک کا معاملہ ہے۔ انہیں اپنی کامیابی انتخابی سیاست میں ”مستحکم“کرنے کے لیے خود الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا حلف نامہ دینا پڑا۔ یہ حیران کن منظر اپنے اندر مکمل سیاسی استعارہ رکھتا ہے۔ باقی چار امیدوار تو استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان سے ملے باقاعدہ وعدے وعید ہوئے، فوٹو سیشن ہوئے جب کہ اس امیدوار کو تو بغیر کسی حیل و حجت اور وعدے وعید کے خود ہی اس پارٹی کا حصہ بننا پڑا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ زیر بحث ہے کہ اس حلقے کی جیت پر پہلے ہی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ سیاسی مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے ایک امیدوار کی اپنی کامیابی شروع سے بیساکھیوں پر کھڑی تھی۔ کبھی مضبوط امیدواروں کو اس کے حق میں دستبردار کرایا گیا، کبھی انتخابی مہم میں بھاری مالی وسائل کی تشہیر جلسوں میں ہوئی ، کبھی معمولی فرق سے کامیابی کا اعلان ہوا، کبھی پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے عمل کو التوا کا شکار بنا کر اس جیت کو یقینی بنایا گیا۔ تو کبھی مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست کی قبولیت اور پھر اس فیصلے کو واپس لینے نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ تمام الزامات متعلقہ فورمز کے فیصلوں کے بغیر حتمی حقیقت نہیں کہلائے جا سکتے، مگر سیاست میں تاثر بھی کبھی کبھی حقیقت جتنا طاقتور ہو جاتا ہے۔

ان حالات کے تناظر میں گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے عمل کو دیکھا جائے تو ایک لنگڑے گھوڑے کو کبھی دستبرداری کی بیساکھی، کبھی انتخابی وسائل کا سہارا، کبھی پوسٹل بیلٹ کے توقف کا فائدہ اور کبھی قانونی درخواستوں کا راستہ ملتا رہا گمان ممکن ہے کہ کل کو سیاست کے میدان میں کب یہ لنگڑا گھوڑا ڈارک ہارس بن جائے۔

گلگت بلتستان کی سیاست میں انہونی کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پہاڑوں کے راستے بھی اچانک مڑتے ہیں اور سیاسی راستے بھی۔ جو آج کمزور دکھائی دیتا ہے، وہ کل کسی بڑے بندوبست کا حصہ بن سکتا ہے۔ جو جماعت آج حکومت سازی کے مرکزی مذاکرات میں نہیں دکھائی دیتی، وہ کل کسی فارمولے کی ضرورت بن سکتی ہے۔ جو امیدوار آج متنازع ہے، وہ کل کسی عہدے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی سیاسی سادگی ہو گی۔

نئی اسمبلی مکمل بھی ہو جائے گی اور موخر نشستوں کے نتائج بھی آ جائیں گے اوروزیر اعلیٰ کا انتخاب بھی ہو جائے گا مگر اس انتخابی عمل کا سب سے حیران کن اور یادگار پہلو استحکام پاکستان پارٹی کو اسمبلی میں چھ نشستیں مل جانا ہی رہے گا۔ سیاست میں کبھی کبھی شکست کو اتنا ”مستحکم“ سہارا مل جاتا ہے کہ وہ ہار کر بھی جیت میں بدل جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی منظر نامے میں دیکھنا اب یہ ہو گا کہ حکومت عوامی مینڈیٹ کی روح کے مطابق بنے گی یا بعد از انتخاب بندوبست کی مہارت سے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔