عاطف متین کے جانے کے بعد ہمارے دوستوں کے حلقے میں خاموشی چھا گئی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں دل سے”جانِ من“کہا جا سکتا ہے۔ ایک سچا اور سچا شہزادہ جو اپنی عادت کے عین مطابق، تقریباً دس دن پہلے وہ کسی کو بتائے بغیر اچانک رخصت ہو گیا۔
شاید ہم سب اس حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈر رہے تھے۔ پھر یہ بوجھ اس شخص کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہو گیا جو عاطف کے سب سے قریب تھا۔ عامر متین پھٹ پڑا اور اس کے بعد یادوں کا بند ٹوٹ گیا۔ وہ باتیں جنہیں ہم دل میں دبائے بیٹھے تھے، ایک ایک کر کے باہر آنے لگیں۔ جو کچھ اندر ابل رہا تھا، اب اسے ہمارے دوستوں کی مشترکہ یادوں میں کم از کم مختصر طور پر جگہ ملنی چاہیے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ یادوں کی یہ بارات مختصر ہو ہی نہیں سکتی۔
عاطف کے لیے راستہ اس کے بڑے بھائی عامر متین اور اس کے دوستوں نے بنایا۔ یہ دوست زیادہ تر راج گڑھ گھرانےسے تعلق رکھتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ گھرانہ پھلتا پھولتا گیا۔ اس میں عامر کے دی نیشن والے قریبی ساتھی بھی شامل ہو گئے۔ عامر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام لکھے ہیں جن سے عاطف کی قربت تھی۔ میں ان یادوں میں زیادہ تر اسی فہرست کو ہی لے کر چلوں گا، جن کے ساتھ میں نے بھی اسے کام کرتے ہوئے دیکھا اوراس سے بات کو سمیٹنے میں بھی آسانی رہے گی۔
میری یاد کے مطابق، عارف شمیم ہی وہ شخص تھے جنہوں نے عاطف کو’ دی نیوز’ کی ابتدائی ٹیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ یہ اخبار 11 فروری 1991 کو شروع ہوا تھا، اور عاطف اس کے اجرا سے کچھ ہی عرصہ پہلے ٹیم کا حصہ بنا تھا۔
عارف، جنہیں راج گڑھ کے دوستوں میں نسبتاً زیادہ سنجیدہ اور سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، اس سے پہلے عاطف کو کالج کے امتحان کی تیاری بھی کروا رہے تھے۔ شاید استاد نے اس لڑکے میں وہ چمک دیکھ لی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لڑکا اب بڑی دنیا میں قدم رکھنے کے لیے تیار ہے۔
متین مارجن
جب عاطف نے دی نیوز اخبار میں کام شروع کیا تو ان دنوں عامر امریکا میں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بات کی مخالفت کی تھی کہ ابھی ابھی لڑکپن سے نکلنے والے عاطف کو صحافت جیسے پیشے میں ڈال دیا جائے۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، کچھ ہی عرصے بعد عامر کو اپنے چھوٹے بھائی کی صورت میں صحافت کے میدان میں ”مقابل“ مل گیا۔ مقابلہ اس بات پر تھا کہ”متین مارجن“ استعمال کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔ عاصم متین، جو عامر اور عاطف دونوں سے بڑے تھے،مگر وہ میدان صحافت میں بہت بعد میں داخل ہوئے۔
متین خاندان کو بات کولچھے دار، مگر چٹخارے دار بنا کر بیان کرنے کا خاص ہنر آتا تھا۔ وہ اپنی کہانیوں کو ایسے رنگ دیتے تھے کہ سننے والے محظوظ ہو جاتے۔
ان کی کہانیوں میں ہمیشہ ایسے کردار موجود ہوتے جو معاشرے کے کناروں پر کھڑے دکھائی دیتے تھے۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ لاہور کی تہہ دار زبان میں لپٹی حقیقت تک پہنچنے کے لیے کچھ جمع تفریق بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر یہی رنگین تفصیلات کرداروں کو بھی بڑا بنا دیتی تھیں اور قصہ گو کو بھی ایک خاص جادو عطا کر دیتی تھیں۔
توانائی کو صحیح رخ دینا
عاطف کے حمایتی جانتے تھے کہ ان چند برسوں میں وہ جس صحبت میں رہا، اس نے اس کے اندر صحافت کا بیج گہرا بو دیا تھا۔ شاید وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اس نوجوان کی توانائی کو صحافت کی طرف موڑ دینا اسے بڑی اور بری دنیا کی کشش سے بچا لے گا۔ بہرحال، جب عاطف کو دی نیوز میں حسین نقی اور مسعود اللہ خان جیسے بڑے ایڈیٹرز کی شاگردی میں دیا گیا تو وہ اس کام کے لیے اکثر نئے لوگوں سے زیادہ تیار تھا۔
عاطف سے پہلی ملاقات کی چند باتیں آج تک یاد ہیں۔ اس کی ایک مخصوص چال تھی۔ وہ پاؤں زیادہ نہیں اٹھاتا تھا۔ جیسے ہمیشہ زمین سے جڑا رہتا ہو۔ اسے گھسٹ کر چلنا کہنا زیادتی ہو گی، مگر اس کے چلنے میں ایک الگ انداز ضرور تھا۔
مجھے دھواں یاد ہے، اس کے چہرے کی سنجیدگی یاد ہے۔ اگر عین وقت پر اس کی مشہور مسکراہٹ نہ آ جاتی تو کوئی بھی اسے مغرور نوجوان سمجھ بیٹھتا۔ مگر وہ مسکراہٹ آئی، اور ہم فوراً دوست بن گئے۔ ہم اس بڑھتے ہوئے گروہ کا حصہ تھے جو نیوز روم میں شفٹ شروع ہونے اور ختم ہونے پر ایک دوسرے سے گلے ملتا تھا۔
صرف دفتر تک بات محدود نہیں تھی۔ دی نیوز کے اجرا سے پہلے اور بعد کے کئی مہینوں تک ہم کام کے اوقات کے بعد بھی اکٹھے رہتے۔ عارف شمیم نے عاطف اور میرے لیے ایک سخت تربیتی مرحلہ بنا رکھا تھا۔ کام ختم ہونے کے بعد رات کے آخری پہر ہم پیدل گھروں کو جاتے۔ اخبار کے سب ایڈیٹرز ہونے کے ناتے ہم ان اوقات کو بڑے شوق سے “wee hours” کہتے تھے۔ عاطف بار بار کہتا کہ ہم آسانی سے رکشہ لے سکتے ہیں، مگر اس کی بات سنی ان سنی کر دی جاتی تھی۔ اور یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اکیلا رکشے پر بیٹھ کر چلا جائے۔
میرا گھر دفتر سے تقریباً تین کلومیٹر دور تھا۔ کبھی کبھی یہ فاصلہ ہی بہت لمبا لگتا۔ مجھے چھوڑنے کے بعد عارف اور عاطف کو مزید تین کلومیٹر یا اس سے کچھ زیادہ آگے جانا ہوتا۔ ہمارے فطری کھلاڑی” طورا خان“کے لیے معاملہ اس وقت اور مشکل ہو جاتا جب کوچ عارف اور میں فیصلہ کرتے کہ ریگل چوک پر چائے پی کر دن کا اختتام کیا جائے۔ کیا اس جگہ کا نام ٹام اینڈ جیری تھا؟ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ عارف کوپیار سے ٹام کہا جاتاتھا، یہ تو شایدتمام دوستوں کو یاد ہی ہو۔
ہم اس دکان پر چائے پیتے۔ پھر ایک اور کپ آ جاتا۔ پھر کبھی کبھار ایک اور۔ اکثر فجر تک وہیں بیٹھے رہتے۔ آخرکار عارف کہتے،” چلیے گڈے“؟
عاطف فوراً اپنا مقررہ جواب دیتا،” نئیں عارف پائیان۔۔۔ بیٹھو، چاء آ رہی اے۔۔۔“
یہی وہ جگہ تھی جہاں سے”بیٹھو، چاء آ رہی اے “ہمارے دوستوں کی زبان کا مستقل حصہ بن گیا۔
گڈا، طورا خان، عاطف مشین، کھلاڑی
”طورا خان“کا لقب عاطف متین کو سینٹ انتھونی ہائی اسکول کےاستاد سر صادق نے دیا تھا۔ یہ نام ایک مشہور فٹ بالر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی احمر، جو اسکول میں عاطف کا ہم جماعت تھا، بتاتا ہے کہ عاطف جس کھیل میں بھی اترتا، نمایاں رہتا۔
بعد میں یہ کھیل کا شوق کمروں کے اندر بھی آ گیا۔ لاہور پریس کلب کے پرانے لوگ آپ کو بتائیں گے کہ جب عاطف رات گئے تاش کے کھیل میں شامل ہوتا تو شرکا پر تعریف اور ہلکے سے خوف کا عجیب سا احساس طاری ہو جاتا۔ وہ اکثر جیتتا تھا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، اسے یہ یاد دلانا بہت پسند تھا کہ وہ ہمیشہ جیتتا ہے۔
اپنے محلے میں ہر شخص، یا کم از کم ہر وہ شخص جو رائل پارک کے فلمی پوسٹروں پر لکھے نک نیمز کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا، اپنے لیے ایک خاص لقب رکھتا تھا۔ کالی، یعنی عاصم متین۔ نونی، یعنی عامر۔ ٹام، یعنی عارف۔ مانا، یعنی لیل پوریہ یا شیخوپوریہ، جنہیں عمران منیر بھی کہا جاتا تھا۔ صاف لگتا تھا کہ اگر صحافی مصلح بن کر معاشرے کو بچانے کی ان کی خواہش ناکام ہو جاتی تو ان کے پاس اپنے فلمی نک نیمز کے ساتھ کوئی دوسرا راستہ بھی موجود تھا۔ مجھے نہیں معلوم ناصر جمال صاحب کا کوئی نک نیم تھا یا نہیں، مگر انہوں نے اپنے انداز و اطوار سے اس کمی کو خوب پورا کیا۔ سنا ہے آج بھی کرتے ہیں۔
عاطف کو سب سے پیارا لقب ملا: گڈا۔ اور یہ اتفاق نہیں تھا۔ اس کے والدین نے اپنے چار بیٹوں کی پرورش کے لیے بہت محنت کی۔ خالد متین، جو متین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور چند سال پہلے دنیا سے رخصت ہوئے،گھر کی اسٹیبلشمنٹ تھے اور فوج میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ خاندان کے ان سب لوگوں کی موجودگی نے یقیناً عاطف کی شخصیت کو بنانے میں بڑا کردار ادا کیا۔ وہ ایک باوقار، دوستانہ اور محبت کرنے والا انسان بنا۔
کام کے برسوں میں عاطف متین کو ایک اور نام ملا: عاطف مشین۔
جب اخبار کی کاپی ڈاون ہونے میں تھوڑا وقت رہ جاتا اور کام زیادہ ہوتا تو گڈا عاطف مشین بن جاتا۔شدید جوش کے لمحوں میں وہ خود بھی یہ دو لفظ ڈرامائی انداز میں دہرا دیتا تھا۔ اسے اس بات کی زیادہ فکر نہیں ہوتی تھی کہ لوگ اس دعوے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہی مثبت سوچ اور خود اعتمادی اسے آگے بڑھاتی رہی۔ اگرچہ اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آخری دنوں میں شاید وہ اپنے اردگرد ہونے والے حادثات کے بوجھ تلے دبنے لگا تھا۔
یہ بات مجھے اب سمجھ آ رہی ہے۔ اس کے آخری چند پیغامات میں ایک بدلا ہوا عاطف نظر آتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ چند سال پہلے اس کی دل کی بڑی سرجری ہوئی تھی۔ مگر میں گھر سے بہت دور بیٹھا اس سے ایسے سوال کرتا رہا جو شاید اس کے لیے بہت بھاری تھے۔ جانے والے دوستوں کے بارے میں، گرتی ہوئے صحافت کے بارے میں، اچھے صحافیوں کے لئے گنجائش کم اور ایسی ہی دوسری باتوں کے بارے میں۔
دوست اور ساتھی عمران شیخ کی اچانک موت کے بارے میں میرے سوال پر اس نے لکھا، ”یہ دنیا، خاص طور پر پاکستان، اس قابل نہیں رہ گئی۔“
واقعی عاطف؟ کیا تمہیں اس بات کی تصدیق کے لیے اپنی مثال بھی پیش کرنا ضروری تھی؟ تم جانتے ہو گھر سے دور رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟ اپنے پیاروں کو مشکل حالات میں چھوڑ آنے کا احساسِ جرم، اور خود اپنی مشکل زندگی میں جینے کا بوجھ، انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔
صحافی، ساتھی، دوست
عاطف کوئی علامہ نہیں تھا۔ وہ لمبی، ختم نہ ہونے والی بحثوں سے بچتا تھا۔ ایسی بحثیں جن میں بڑے باصلاحیت کاپی ایڈیٹرز سے لے کر خود ساختہ گرامر کے نازی تک سب شامل ہو جاتے تھے۔ عاطف کو عمل چاہیے تھا۔ وہ گلی کا آدمی تھا۔ گلی میں جیتا تھا، گلی سے سیکھتا تھا اور گلی ہی سے توانائی لیتا تھا۔ ایک ذہین نوجوان کے طور پر اس نے جلد سمجھ لیا تھا کہ اس کے مزاج کے لیے کیا بہتر ہے۔ اس نے اپنی اسی طاقت کو بنیاد بنایا اور آخرکار ایک بہت قابل، بہت عوامی نیوز ایڈیٹر بن گیا۔
”مقبول“کے لیے انگریزی میں شاید “popular” کہا جا سکتا ہے۔ عاطف یقیناً مقبول تھا۔ مگر وہ کوئی فرشتہ بھی نہیں تھا کہ رقابتوں، پسند ناپسند اور شکایات سے درگزر کرتا۔
عامر نے اپنی پوسٹ میں ان لوگوں کی لمبی فہرست دی ہے جن سے عاطف قریب تھا یا جن کے ساتھ اس نے کام کیا تھا۔ ان میں بھی اور اس فہرست سے باہر بھی، عاطف کے اپنے پسندیدہ لوگ تھے۔ اسی طرح اس کی اپنی شکایات بھی تھیں۔ کچھ ذاتی وجوہات کی وجہ سے، کچھ پیشہ ورانہ وجوہات کی وجہ سے۔ مجموعی طور پر اس کے سیاسی خیالات عامر متین کے خیالات سے بہت قریب تھے۔ البتہ ذاتی سطح پر وہ کبھی کبھی ایسے تعلقات بھی بنا لیتا جنہیں بڑے بھائی شاید زیادہ پسند نہ کرتے۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اتنی خاص دوستیاں، اتنے لمبے عرصے تک، ایک ساتھ نبھا سکتا تھا۔ اس کی بنیاد وہ احترام اور گرمجوشی تھی جو وہ دوسروں کو دیتا تھا۔ جواب میں اسے محبت ملتی تھی۔
خواتین کے لیے اس کے دل میں خاص احترام تھا۔وہ میری والدہ کا پسندیدہ تھا۔ میرے والد آئی اے رحمان بھی اس سے محبت کرتے تھے۔ وہ میرے بھائی احمر کا دوست تھا، جو اس کا سینٹ انتھونی سکول میں ہم مکتب بھی تھا اور فورمین کالج کا ساتھی بھی۔ وہ میرے دوسرے بہن بھائیوں سے بھی دوست تھا۔
وہ ہمارے گھر میں خاندان کا فرد تھا۔ جیسے وہ ان بہت سے گھروں میں خاندان کا حصہ تھا جہاں وہ باقاعدگی سے آتا جاتا تھا۔ دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر تقریباً 30 سال پہلے وہ میری شادی کے انتظامات کرنے والوں میں بھی شامل تھا۔ اسی شادی میں اس کی ملاقات میرے کزنز سے ہوئی اور اس نے ان سے بھی عمر بھر کی دوستیاں بنا لیں۔ وہ ہمارے گھر کا اتنا مستقل فرد تھا کہ ستمبر 2025 میں میری بیٹی رابعہ کی رخصتی میں بھی پہنچاتھا۔
میری اہلیہ ہدیٰ کو عاطف کا آخری پیغام اس کے انتقال سے چار دن پہلے ملا۔ اس نے انہیں سالگرہ کی مبارک باد دی تھی۔ اسی دن ایک الگ ایس ایم ایس میں اس نے یاد دلایا کہ وہ اس کی خون بدل بہن ہیں۔ عاطف کا بلڈ گروپ او پازیٹو تھا۔ ضرورت کے وقت وہ ہمارے لیے سب سے پہلے یاد آنے والے ڈونرز میں سے تھا۔ وہ خون بھی محبت اور ایک خاص اہتمام کے ساتھ دیتا تھا۔
اپنے جانے سے چند دن پہلے ایک اور پیغام میں عاطف متین نے رابعہ اور ہمارے بیٹوں آدم اور حاتم کی تصویر مانگی۔ یہ اس جیسا نہیں تھا۔ گڈا اب ماموں جیسا برتاؤ کر رہا تھا۔ یہ بات ناقابلِ تصور تھی۔
کھلاڑی بمقابلہ بارہواں کھلاڑی
مجھے معلوم ہے کہ یادوں کو لکھنے کی یہ کوشش بہت طویل ہو گئی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ہمارے دوستوں کے حلقے سے باہر ہیں۔ مگر یاد کرنے کو ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے۔
فی الحال میں یہ نوٹس ایک واقعے پر ختم کرتا ہوں۔ یہ واقعہ اس شاگرد کے جوان ہو جانے کی نشانی تھا جس نے آخر میں اپنے ہی نمونے، اپنے ہی رول ماڈل، پر ایک خوبصورت وار کر دیا۔
میں پہلے بتا چکا ہوں کہ عاطف فطری کھلاڑی تھا۔ اسے کھیل سے محبت تھی۔ جب تقریباً 35 سال پہلے لاہور میں دی نیوز اور دی نیشن کے درمیان کرکٹ میچ کی تجویز آئی تو ظاہر ہے وہ اس خیال کا پرجوش حامی تھا۔ یقیناً دی نیوز ہار گیا۔ دی نیشن نے ہمیں بری طرح شکست دی۔ ہماری بدقسمتی کہ وہی اخبار تھا جہاں اس وقت عامر متین کام کرتے تھے، جو لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو چکے تھے۔
یہ شکست ہمارے لیے صدمہ تھی۔ مگر کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم جیسے نظریاتی لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے اس” انتہائی اہم“واقعے کو رپورٹ کیے بغیر گزرنے دیتے؟ دی نیشن نے رپورٹ کرنی تھی، اور اس نے تصویر سمیت رپورٹ کی۔ اگر ہماری رپورٹ میں یہ خبر نہ آتی تو یہ تقریباً کفر ہوتا۔ ہم نے آپس میں فیصلہ کیا کہ ہم بھی یہ خبر شائع کریں گے۔
عاطف نے دی نیوز لاہور کے اسپورٹس ڈیسک کی تیار کردہ رپورٹ میں تعاون کیا۔ رپورٹ نے فاتح ٹیم کو کریڈٹ دیا، مگر فوراً کھیل کے دوسرے”اہم پہلوؤں“ کی طرف بڑھ گئی۔ مجھے محترم ایم اے نیازی کا حوالہ یاد ہے، جو شاید دی نیشن کے کپتان تھے۔ رپورٹ میں انہیں وہ وکٹ کیپر کہا گیا تھا جو گیند کے پیچھے میدان کے ہر کونے تک بھاگتے رہے۔
پھر ایک ایسے نوجوان کا ذکر تھا جس میں بہت امکان تھا۔ وہ بیٹنگ کریز پر زیادہ دیر نہیں ٹھہرا، مگر ہمیشہ کی طرح اتنا جوشیلا ضرور تھا کہ اپنی کوشش کے لیے ایک صفت لے سکے۔ آپ چاہیں تو اسے عاطف متین کی ایک تیز رفتار، ہوا دار اننگز کہہ لیں۔
مگر جس جملے نے واقعی کہانی کوہمارے” حق “ میں کر دیا، وہ رپورٹ کے آخر میں تھا۔ وہاں ان بے چارے”ایکسٹراز“ کا ذکر تھا جو میدان میں دوڑتے پھر رہے تھے۔ نشانہ بہت واضح طور پر ایک خاص عامر متین کی طرف تھا، جنہیں” خاص طور پر اسلام آباد سے بارہویں کھلاڑی کا کردار ادا کرنے کے لیے بلوایا گیا تھا۔ “
اس شام عاطف کے چہرے پر جو فاتحانہ مسکراہٹ تھی، میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ کسی کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا نہیں تھا۔ حتی ٰکہ اپنے رول ماڈل کے سامنے بھی نہیں۔





