کیا امریکہ چین کو عالمی طاقت مانے گا یا ’تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘ کا خطرہ بڑھ رہا ہے؟

کیا امریکہ چین کو عالمی طاقت مانے گا، یا باہمی تنازعات دونوں ملکوں کو ’تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘ کی طرف دھکیل دیں گے؟

بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پھنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات صرف دو ملکوں کی رسمی سفارتی نشست نہیں تھی بلکہ مذاکرات کی اس میز پر کئی ایسے تنازعات ایک ساتھ موجود تھے جو عالمی تجارت، طاقت کے توازن اور علاقائی سلامتی کا منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔ ان تنازعات میں ٹیرف جنگ، تائیوان کا حساس سوال، ایران اور آبنائے ہرمز، تیل کی فراہمی، چِپ ٹیکنالوجی، نایاب معدنیات، اور امریکی کمپنیوں کی چین تک رسائی شامل ہیں۔

بظاہر یہ الگ الگ معاملات دکھائی دیتے ہیں، مگر اصل میں سب ایک ہی بڑے سوال سے جڑے ہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں امریکہ چین کو کتنی جگہ دینے کو تیار ہے؟ کیا واشنگٹن چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ایک عالمی حقیقت کے طور پر قبول کرے گا، یا اسے روکنے کی کوشش کرے گا؟

یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کا ایک اہم سوال سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ کیا امریکہ اور چین کا مقابلہ بھی اسی ‘تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ’ (Thucydides Trap) کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ایک نئی طاقت کا ابھرنا،  پرانی طاقت کے خوف کو بڑھا کر تصادم کا خطرہ پیدا کر دے گا؟

شی جن پھنگ نے یہ اصطلاح امریکی صدر کی موجودگی میں کیوں استعمال کی؟

چینی صدر شی جن پھنگ کا’ تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘کا حوالہ اتفاقی نہیں تھا۔ چین کئی برس سے یہ کہتا آ رہا ہے کہ اس کی ترقی امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اپنے قومی احیا کا حصہ ہے۔ مگر بیجنگ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ واشنگٹن تجارتی پابندیوں، چِپ کنٹرول، تائیوان کی دفاعی مدد، فلپائن اور جاپان کے ساتھ فوجی بندوبست، اور بحرالکاہل میں اتحادوں کے ذریعے چین کی عالمی طاقت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں شی جن پھنگ کا پیغام صرف امن کی خواہش نہیں ہے بلکہ  یہ واشنگٹن کو یاد دلانے کی کوشش بھی ہے کہ اگر غالب طاقت، ابھرتی ہوئی طاقت کے لیے جگہ نہیں بناتی تو  دونوں کا مقابلہ خود ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں بیجنگ ‘تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ’ کی اصطلاح کو ایک طرف امن کے اشارے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تو دوسری طرف واشنگٹن پر یہ ذمہ داری بھی ڈال رہا ہے کہ وہ چین کی حیثیت کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرے۔

تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ’ ہے کیا، اور ایتھنز، اسپارٹا کی مثال آج کیوں دی جاتی ہے؟

تھیوسی ڈیڈیز قدیم یونانی مؤرخ تھے۔ انہوں نے ایتھنز اور اسپارٹا کی جنگ کے بارے میں لکھا ہے کہ ایتھنز کا عروج اور اسپارٹا کے اندر پیدا ہونے والا خوف جنگ کو ناگزیر بنانے لگا تھا۔ جدید دور میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن نے اسی خیال  کو ’ تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘  کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان کے ہارورڈ بیلفر سینٹر کی تحقیق کے مطابق 16 تاریخی مثالوں میں 12 بار ابھرتی ہوئی طاقت اور غالب طاقت کے درمیان مقابلہ جنگ پر ختم ہوا۔

ہارورڈ بیلفر سینٹر کی “تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ” سے متعلق تحقیق کے مطابق گزشتہ 500 برس میں 16 مثالیں ایسی ملتی ہیں جہاں ایک ابھرتی ہوئی طاقت نے پہلے سے غالب طاقت کو چیلنج کیا۔ بیلفر سینٹر کے مطابق ان میں 12 مقابلے جنگ پر ختم ہوئے۔

ان جنگی مثالوں میں فرانس کے مقابل ہیبسبرگ (Habsburg) طاقت کا ابھرنا، ہیبسبرگ سلطنت کے مقابل عثمانی طاقت، اور ہیبسبرگ کے مقابل سویڈن شامل ہیں۔ اسی فہرست میں ڈچ جمہوریہ کے مقابل انگلینڈ، فرانس کے مقابل برطانیہ، اور برطانیہ کے مقابل نپولین دور کا فرانس بھی آتا ہے۔

بعد کی مثالوں میں برطانیہ اور فرانس کے مقابل روس، فرانس کے مقابل جرمنی، چین اور روس کے مقابل جاپان، برطانیہ، فرانس اور روس کے مقابل جرمنی، امریکہ کے مقابل جاپان، اور امریکہ کے مقابل سوویت یونین شامل ہیں۔

اسی کیس فائل میں 4 مثالیں ایسی بھی دی گئی ہیں جہاں مقابلہ جنگ میں تبدیل نہیں ہوا۔ ان میں پرتگال کے مقابل اسپین، برطانیہ کے مقابل امریکہ، سوویت یونین، فرانس اور برطانیہ کے مقابل جرمنی، اور برطانیہ و فرانس کے مقابل سرد جنگ کے بعد دوبارہ طاقتور ہوتا جرمنی شامل ہیں۔

اس اصطلاح کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک شہر کی بڑی منڈی میں پرانا تاجر راستوں، گوداموں، خریداروں اور تحفظ کے نظام پر قابض ہے۔ نیا تاجر پہلے سستی چیزیں بیچتا ہے، پھر اپنا گودام بناتا ہے، سپلائی لائن کھڑی کرتا ہے، اور دکان دار اس کے ساتھ براہ راست سودا کرنے لگتے ہیں۔ پرانے تاجر کو پھر مسئلہ صرف کمائی کا نہیں رہتا۔ اسے لگتا ہے کہ منڈی کا پورا کنٹرول اس کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

امریکہ، چین مقابلہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ چین صرف زیادہ سامان نہیں بیچ رہا، بلکہ پیداوار، ٹیکنالوجی، بندرگاہوں، قرض، توانائی، بحری راستوں اور علاقائی اثر میں بھی اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

کیا امریکہ چین کو عالمی طاقت مانے گا، یا باہمی تنازعات دونوں ملکوں کو ’تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘ کی طرف دھکیل دیں گے؟

کیا اصل تنازع تجارت کا ہے یا عالمی پیداوار کے نظام میں غلبے کا؟

امریکہ چین پر ٹیرف لگا کر اسے دباؤ میں لانا چاہتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکی معیشت خود بھی چین سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (Office of the United States Trade Representative — USTR) کے مطابق 2024 میں دونوں ملکوں کی اشیا اور خدمات کی تجارت 658.9 ارب ڈالر تھی۔ 2025 میں امریکہ نے چین کو 106.3 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ چین سے 308.4 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔ یعنی امریکہ چین کو روکنا بھی چاہتا ہے اور اسی چین سے اپنی مارکیٹ کے لیے سامان بھی لیتا ہے۔

یہی تضاد تجارتی جنگ کو صرف معاشی اختلاف نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے عالمی طاقت کے نظام کا سوال بنا دیتا ہے۔ امریکہ ٹیرف لگا کر چینی مصنوعات کو مہنگا کرتا ہے تاکہ چین کی برآمدی برتری کم ہو۔ مگر اس  فیصلے  کا اثر صرف بیجنگ تک محدود نہیں رہتا۔ امریکی مارکیٹ میں درآمدی اشیا مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا بوجھ آخرکار صارف، دکان دار اور کمپنی پر منتقل ہوتا ہے۔

دوسری طرف چین نایاب معدنیات، بیٹریوں، برقی گاڑیوں، شمسی پینلز اور صنعتی خام مال میں اپنی گرفت کو جواب کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ تجارتی جنگ سفارتی بیان بازی نہیں رہتی، بلکہ موبائل، گاڑی، کمپیوٹر، سولر پینل، بیٹری اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمت تک پہنچ جاتی ہے۔

امریکہ چین کے اردگرد فوجی طاقت کیوں رکھنا چاہتا ہے؟

اگر امریکہ اور چین کا تنازع صرف تجارت تک محدود ہوتا تو اسے ٹیرف کم کر کے، خریداری بڑھا کر یا مارکیٹ تک رسائی دے کر کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین کی معاشی طاقت اب بحرالکاہل کے علاقے میں طاقت کے نقشے کو بھی بدل رہی ہے۔

امریکہ کئی دہائیوں سے مشرقی ایشیا میں بڑی سیکیورٹی طاقت رہا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، آسٹریلیا اور تائیوان کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات اسی اثر کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن اسے اپنے اتحادیوں کا تحفظ اور سمندری راستوں کی آزادی کہتا ہے، مگر بیجنگ اسے اپنے گرد دباؤ کا گھیراتصور کرتا ہے۔

تائیوان اسی کشمکش کا سب سے نازک مقام ہے۔ چین اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ تائیوان کے دفاعی نظام کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ ملاقات میں بھی چینی صدر  شی جن پھنگ نے ٹرمپ کو خبردار کیا  ہےکہ تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سمجھنا امریکہ، چین تعلقات کو خطرناک سمت میں لے جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تائیوان کا بحران صرف ایک جزیرے یا سیاسی دعوے کا مسئلہ نہیں رہتا۔ اس سے جدید چِپ ٹیکنالوجی، عالمی تجارت، بحری راستے، امریکی اتحاد اور چین کی داخلی سیاست ایک ساتھ متاثر ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کو چین سے خطرہ کیوں محسوس ہو رہا ہے؟

عالمی طاقت کا توازن سمجھنے کے لیے معیشت کے اعداد اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2024 میں امریکہ کی معیشت کا حجم تقریباً 28,750 ارب ڈالر تھا، جبکہ چین کی معیشت 18,740 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ یعنی امریکہ اب بھی چین سے بڑا ہے، مگر چین اتنا بڑا معاشی کھلاڑی بن چکا ہے کہ عالمی تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

خطرہ اسی جگہ پیدا ہوتا ہے جہاں امریکہ اپنی برتری بچانا چاہتا ہے، جبکہ چین اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ اسے عالمی نظام سے باہر رکھنا آسان نہیں رہا۔ یہی درمیانی مرحلہ ’ تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘کی طرف دھکیل دیتا ہے جہاں  غالب طاقت کا ابھی غلبہ ہے، مگر ابھرتی طاقت بھی اتنی کمزور نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جا سکے۔

فوجی میدان میں بھی امریکہ کی برتری واضح ہے، مگر چین کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Stockholm International Peace Research Institute — SIPRI) کے مطابق 2025 میں دنیا کے فوجی اخراجات 2,887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان میں امریکہ کا حصہ 954 ارب ڈالر تھا، جبکہ چین کا دفاعی خرچ 336 ارب ڈالر رہا ہے۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ فوجی طاقت میں اب بھی بہت آگے ہے، مگر چین اپنی بحری طاقت، میزائل نظام، خلائی نگرانی اور علاقائی دفاعی صلاحیت مسلسل بڑھا رہا ہے۔ یہی اعداد بتاتے ہیں کہ امریکہ، چین مقابلہ اب صرف بازار، ٹیرف یا تجارت کا معاملہ نہیں رہا؛ یہ سمندر، فضا، خلا، جزائر اور فوجی اتحادوں تک پھیل چکا ہے۔

جیفری ساکس، مئیر شائمر اور کشور محبوبانی اسے کیسے دیکھتے ہیں؟

جیفری ساکس کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ چین کو دشمن بنا کر پیش کرنا جنگ کی طرف لے جانے والی سوچ بن سکتا ہے۔  پروفیسر جیفری ساکس نے خبردار کیا ہے کہ چین کے خلاف امریکی عسکری زبان خود اس خدشے کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ ان کے نزدیک چین عالمی توانائی تبدیلی، تجارت اور ترقی میں ایک اہم طاقت ہے، اس لیے اسے روکنے کے بجائے تعاون اور مقابلے کے متوازن ڈھانچے میں لانا چاہیے۔

جان مئیر شائمر کا نظریہ زیادہ سخت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کے مطابق بڑی طاقتیں اپنے خطے میں غلبہ چاہتی ہیں اور کسی دوسری بڑی طاقت کو اپنے خطے میں غالب ہونے سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے 2010 کے مضمون “دی گیدرنگ اسٹورم” میں دلیل دی گئی کہ چین کے عروج سے ایشیا میں امریکی برتری کمزور ہو گی، اور چین اگر طاقتور ہوا تو وہ امریکہ کو ایشیا سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے گا۔ اس نظریے میں تصادم کی بنیاد صرف تجارت نہیں، بلکہ علاقائی غلبہ اور سلامتی کا خوف ہے۔

سنگاپور سے تعلق رکھنے والے سکالر کشور محبوبانی کا زاویہ مختلف ہے۔ ان کی کتاب “Has China Won” کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف ایک بڑا جغرافیائی  محاذ کھولا ہوا ہے ، مگر اس کے پاس طویل مدت کی جامع حکمت عملی نہیں۔ محبوبانی کے نزدیک امریکہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا اب وہ نہیں رہی جس میں صرف ایک طاقت، یعنی امریکہ، عالمی فیصلوں پر حاوی ہو۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے بجائے اسے بڑے عالمی نظام میں جگہ دینا زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔

کیا امریکہ چین کو تسلیم کرے گا، یا مقابلہ ایک بڑے تصادم میں بدل جائے گا؟

بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں اٹھنے والا سوال آخر میں پھر اسی بنیادی نکتے پر آ کر رکتا ہے کہ امریکہ، چین کشیدگی کی بنیاد صرف تجارتی برتری یا علاقائی کنٹرول نہیں ہے۔ تجارت چین کو معاشی طاقت دیتی ہے، ٹیکنالوجی اسے مستقبل کی برتری دیتی ہے، علاقائی اثر اسے سلامتی فراہم کرتا ہے، اور سمندری راستوں تک رسائی اس کی توانائی اور برآمدات کو تحفظ دیتی ہے۔ امریکہ اسی پوری تصویر کو اپنے عالمی اثر و رسوخ کے لیے چیلنج سمجھتا ہے۔

اسی لیے امریکہ اور چین کے درمیان خطرہ یہ نہیں کہ دونوں ملک فوری جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ غلط اندازہ، سخت بیانات، تائیوان پر دباؤ، تجارتی پابندیاں، ٹیکنالوجی کی روک تھام یا سمندری راستوں پر فوجی موجودگی کسی چھوٹے بحران کو بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔

شی جن پھنگ کا سوال اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کیا دونوں طاقتیں عالمی کنٹرول کے اس مقابلے کو طے شدہ قواعد، مسلسل رابطے اور واضح حدود کے اندر رکھ سکیں گی، یا خوف اور بداعتمادی انہیں اسی جال میں لے جائے گی جسے تاریخ میں’ تھیوسی ڈیڈیز ٹریپ‘کہا جاتا ہے؟

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔