ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس، بلڈر کی نادہندگی یا سی ڈی اے کی سہولت کاری؟

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس، بلڈر کی نادہندگی یا سی ڈی اے کی سہولت کاری؟

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں بی این پی کی نادہندگی اب کوئی مبہم بات نہیں رہی۔ عدالتوں کے فیصلوں، سی ڈی اے کے ریکارڈ اور ایف آئی اے کی انکوائری کو ساتھ رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ بلڈر نے اپنی مالی اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ مگر اس کہانی کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بلڈر نے کیا کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سی ڈی اے نے 2005 سے 2026 تک یہ سب کچھ چلنے کیوں دیا؟
یہ منصوبہ سرکاری زمین پر شروع ہوا۔ اشتہار فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے دیا گیا۔ سی ڈی اے نے ابتدا میں واضح کیا کہ سروسڈ اپارٹمنٹس ہوٹل کا حصہ ہوں گے اور انہیں الگ سے فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے باوجود منصوبہ آگے بڑھتا رہا، ادائیگیوں میں بار بار رعایت ملتی رہی، سی ڈی اے کے پاس موجود مالی ضمانتیں عملی دباؤ کا مؤثر ذریعہ نہ بن سکیں، عمارت بنتی رہی اور آخرکار 240 اپارٹمنٹس فروخت ہو گئے۔ خریداروں سے اربوں روپے وصول کیے گئے، مگر سی ڈی اے کو سرکاری زمین کی پوری رقم نہ مل سکی۔
یہی اس کیس کا اصل تنازع ہے۔ اگر قانون موجود تھا تو اس پر وقت پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ اگر سی ڈی اے کو خلاف ورزیاں نظر آ رہی تھیں تو کارروائی مؤخر کیوں ہوتی رہی؟ اور اگر یہ منصوبہ شروع ہی سے فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے تھا تو یہ لگژری رہائشی فلیٹس میں کیسے بدل گیا؟

کیا 1996 کا کابینہ فیصلہ اسلام آباد کی پہلی ریاستی چائنہ کٹنگ تھا؟

08 جنوری 1996 کو محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم اور نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے۔ اسی روز وفاقی کابینہ نے یادگار اور کنونشن سینٹر کی تعمیر کی منظوری دی۔ اسی فیصلے میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں جزوی تبدیلی کی اجازت بھی دی گئی تاکہ شاہراہِ کشمیر کے رائٹ آف وے کو محدود کیا جا سکے۔ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کہ جگہ پر اصل ماسٹر پلان یا سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کے تحت منظور شدہ اسکیم میں عمارت کی گنجائش موجود نہیں تھی۔ یہ علاقہ اصل منصوبے میں کشمیر ہائی وے اور مری روڈ کے لیے مختص تھا۔ اس لیے 1996 کا فیصلہ اس معاملے کی پہلی ریاستی چائنہ کٹنگ بنا۔ ریاست نے ماسٹر پلان میں کٹ لگا کر اس مقام پر تعمیرات کا دروازہ کھولا۔
بعد میں 06 مئی 1997 کو 1996 کے کابینہ فیصلے کی بنیاد پر مخصوص علاقے کے ماسٹر پلان میں جزوی تبدیلی کی گئی۔ اس تبدیلی سے کنونشن سینٹر کی تعمیر کے لیے گنجائش پیدا ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایک بار ماسٹر پلان میں زون 3کے اس علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا تو آگے چل کر اسی زمین کو ہوٹل، کمرشل استعمال اور پھر رہائشی اپارٹمنٹس تک لے جانا آسان ہو گیا۔
نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں چوہدری شجاعت حسین وزیر داخلہ تھے ۔ 03 اپریل 1997 کو وفاقی کابینہ نے کنونشن سینٹر کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ سی ڈی اے کو ہدایت دی گئی کہ اسے فائیو اسٹار ہوٹل کے پیکج سائٹ کے طور پر فروخت کے لیے مشتہر کیا جائے۔
مگر نہ تو اس حوالے سے کوئی باقاعدہ تجویز کابینہ کے سامنے رکھی گئی، نہ ماسٹر پلان یا منظور شدہ اسکیم کو قانون کے مقررہ طریقے سے بدلا گیا۔سادہ الفاظ میں زمین کے کمرشل استعمال کے لئے قانونی بنیاد درست طریقے سے فراہم ہی نا کی گئی۔
پھر 02 جولائی 1997 کو فائیو اسٹار ہوٹل، شاپنگ مال اور دیگر سہولتوں کو کنونشن سینٹر کے ساتھ شامل کرنے کی تجویز کابینہ کے سامنے آئی۔ کابینہ نے یہ تجویز منظور نہیں کی اور پہلے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس طرح کنونشن سینٹر کے ساتھ کمرشل استعمال کو مزید پھیلانے کی کوشش سامنے آئی، مگر قانونی طور پر ماسٹر پلان کی مکمل اور واضح تبدیلی پھر بھی نہیں ہوئی۔
یوں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی عمارت بعد میں بنی، مگر اس کی بنیاد 1996 سے 1999 کے درمیان پڑنے والی ریاستی چائنہ کٹنگ میں تھی۔ پہلے ماسٹر پلان میں تبدیلی کی گئی، پھر اسی جگہ کو نجی ہوٹل، زیادہ بلندی، نئے بائی لاز اور کمرشل استعمال کے راستے کھولے گئے۔

ڈائیوو، نجکاری اور بلندی کا سوال کہاں سے آیا؟

اسلام آباد کے اس ریڈ زون سے منسلک علاقے میں تعمیرات کی بلندی کا معاملہ ڈائیوو کمپنی کے ساتھ اس علاقے میں تعمیرات کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات سے شروع ہوا۔ 1998 میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے کنونشن سینٹر کی نجکاری کے لیے ڈائیوو کارپوریشن سے بات چیت کے لیے کمیٹی بنائی۔ اسی مذاکراتی عمل کے بعد 31 مئی 1999 کے ریکارڈ میں فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے 20 منزلوں کے بائی لاز کا ذکر آتا ہے۔
یہ شرائط پرائیوٹائزیشن بورڈ کی کمیٹی نے 26 فروری 1999 کو منظور کی تھیں اور معاملہ کابینہ کو بھیجا گیا تھا۔ یعنی اس مرحلے پر بات صرف کنونشن سینٹر یا ہوٹل تک محدود نہیں رہی تھی، بلکہ سرکاری زمین کو نجی منصوبے کے طور پر آگے بڑھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔
اس کے فوراً بعد 23 جون 1999 کو سی ڈی اے نے اسی منصوبے کی بلندی پر اعتراض اٹھایا۔ تجویز یہ تھی کہ ہوٹل کی بلندی 65 فٹ سے 180 فٹ، یعنی تقریباً 20 منزلوں تک بڑھائی جائے۔ سی ڈی اے کا اعتراض تھا کہ اس علاقے کی زوننگ اتنی بلند عمارت کی اجازت نہیں دیتی۔
وفاقی کابینہ پہلے ہی 11 دسمبر 1995 کو اسلام آباد میں عمارتوں کی زیادہ سے زیادہ بلندی 150 فٹ مقرر کر چکی تھی۔ عام زبان میں، جس جگہ 180 فٹ بلندی بھی قواعد سے باہر سمجھی جا رہی تھی، وہاں بعد میں اس سے کہیں زیادہ بلند عمارت کا راستہ کھل گیا۔
29 مارچ 2008 کو سی ڈی اے نے بی این پی کے بلڈنگ پلانز منظور کیے۔ انہی پلانز میں ہوٹل ٹاور اپارٹمنٹس اور سروس اپارٹمنٹس شامل تھے، اور 200 اپارٹمنٹس کی منظوری دی گئی۔ بعد میں 10 نومبر 2008 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعتراض کیا کہ اس مقام پر 33.40 فٹ سے زیادہ بلند عمارت نہیں بن سکتی، مگر سی ڈی اے کے منظور شدہ پلانز میں اسی منصوبے کو 725 فٹ تک تعمیر کی اجازت دی گئی تھی۔
12 جنوری 2009 کو وزارت دفاع نے سول ایوی ایشن کے اعتراض کی تائید کی اور پاکستان ایئر فورس نے بھی اعتراض اٹھایا۔ آخرکار 07 جنوری 2013 کو دوسری ترمیمی لیز ڈیڈ کے ذریعے عمارت کی بلندی 45 منزلوں سے کم کر کے 23 منزلوں تک کر دی گئی۔ مگر یہ کمی اصل سوال ختم نہیں کرتی: جب ڈائیوو اور نجکاری کے دور میں 180 فٹ پر بھی اعتراض تھا، اور بعد میں سول ایوی ایشن 33.40 فٹ سے زیادہ بلندی کو مسئلہ بنا رہی تھی، تو سی ڈی اے کے منظور شدہ پلانز میں 725 فٹ تک کا راستہ کیسے کھلا؟
یہی نکتہ دکھاتا ہے کہ اس منصوبے میں زمین کے استعمال کے ساتھ ساتھ بلندی کے معاملے میں بھی ریاستی اداروں نے پہلے غیر معمولی گنجائش پیدا کی، پھر اعتراضات کے بعد اسے کم کیا۔ یعنی مسئلہ صرف فلیٹس کی فروخت کا نہیں تھا؛ مسئلہ یہ بھی تھا کہ اس مقام کی اصل شہری، دفاعی اور ہوابازی کی حساسیت کو نظرانداز کرتے ہوئے منصوبہ بہت آگے بڑھنے دیا گیا۔

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس، بلڈر کی نادہندگی یا سی ڈی اے کی سہولت کاری؟

کس سی ڈی اے چیئرمین کے دور میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو کون سی سہولت ملی؟

اس کیس میں سی ڈی اے مرکزی اہمیت کا ادارہ ہے ، کیونکہ ہر اہم موڑ پر چیئرمین، بورڈ اور متعلقہ افسران نے اس غیر قانونی عمارت کی تعمیر کو روکنے کی بجائے سہولت کاری کی۔ اس عمارت کی تعمیر کے حوالے سے 2004 سے 2008 تک کے تمام اہم فیصلے کامران لاشاری کے دور میں ہوئے۔ اسی دور میں سی ڈی اے نے وزارت داخلہ کو کنونشن سینٹر کے ساتھ ہوٹل منصوبے پر بریفنگ دی، وزارت داخلہ نے فائیو اسٹار ہوٹل کے اشتہار کی منظوری دی، اشتہار شائع ہوا، مجوزہ لیز ڈیڈ چیئرمین کے سامنے رکھی گئی، کنسورشیم کی 4 ارب 88 کروڑ روپے سے زائد کی بولی منظور ہوئی، اور 28 جولائی 2005 کو لیز بی این پی کے نام کر دی گئی۔ یہی وہ بنیادی مرحلہ تھا جہاں سرکاری زمین کو نجی ہوٹل منصوبے کے طور پر مارکیٹ میں لایا گیا، پھر لیز ایک ایسی کمپنی کے نام ہوئی جس کے بارے میں بعد میں عدالت نے لکھا کہ وہ اصل بولی دینے والے کنسورشیم کی شریک کمپنی نہیں تھی۔
کامران لاشاری کے دور ہی میں ادائیگیوں اور بلندی کے اہم فیصلے بھی سامنے آئے۔ 2007 میں بی این پی کی ادائیگیوں کی ری شیڈولنگ کا معاملہ ای سی سی تک گیا، 16 اگست 2007 کو سی ڈی اے بورڈ نے ادائیگیوں کا شیڈول بدل دیا، اور 04 اکتوبر 2007 کو پہلی ترمیمی لیز ڈیڈ ہو گئی۔ 29 مارچ 2008 کو سی ڈی اے نے بی این پی کے بلڈنگ پلانز منظور کیے، جن میں ہوٹل ٹاور اپارٹمنٹس، سروس اپارٹمنٹس اور 200 اپارٹمنٹس شامل تھے۔
10 نومبر 2008 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعتراض کیا کہ اس مقام پر 33.40 فٹ سے زیادہ عمارت نہیں بن سکتی، جبکہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق سی ڈی اے کے منظور شدہ پلانز میں اسی عمارت کو 725 فٹ تک لے جانے کی اجازت موجود تھی۔ عام زبان میں، جس جگہ ہوابازی کے ادارے نے 33.40 فٹ کی حد بتائی، وہاں سی ڈی اے کے نقشوں میں 725 فٹ کی گنجائش پہلے ہی دی جا چکی تھی۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق سول ایوی ایشن، وزارت دفاع اور پاکستان ایئر فورس کے اعتراضات طارق محمود خان کے دور میں سامنے آئے۔ 10 نومبر 2008 کو سول ایوی ایشن نے بلندی پر اعتراض کیا، اور 12 جنوری 2009 کو وزارت دفاع نے اس مؤقف کی تائید کی جبکہ پاکستان ایئر فورس نے بھی اعتراض اٹھایا۔
اس کے بعد امتیاز عنایت الٰہی کے دور کے آخری دنوں میں 08 دسمبر 2011 کو سی ڈی اے کو پہلی بار احساس ہوا کہ بی این پی اصل بولی دہندہ کنسورشیم کا حصہ نہیں تھی۔ یہ سوال 2012 میں بھی دہرایا گیا، مگر عدالتی ریکارڈ کے مطابق کمپنی نے قابلِ قبول جواب نہیں دیا اور سی ڈی اے نے معاملے کا پیچھا نہیں کیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ادارہ لیز کی بنیاد اور کمپنی کی حیثیت کو سختی سے جانچ سکتا تھا، مگر معاملہ آگے نہیں بڑھایا گیا۔
سید طاہر شہباز جب چئیرمین سی ڈی اے تھے تو 07 دسمبر 2012 کو سی ڈی اے اور بی این پی کے درمیان سیٹلمنٹ ہوئی، جس کے بعد ادائیگی کی شرائط پھر بدل دی گئیں۔ 07 جنوری 2013 کو دوسری ترمیمی لیز ڈیڈ ہوئی، جس سے قسطوں کی ادائیگی 2026 تک بڑھ گئی اور عمارت کی بلندی 45 منزلوں سے کم کر کے 23 منزلوں تک کر دی گئی۔ بظاہر یہ بلندی کم کرنے کا فیصلہ تھا، مگر عملی طور پر اس نے منصوبے کو ختم کرنے کے بجائے نئی ادائیگی مدت اور نئے سائز کے ساتھ زندہ رکھا۔
05 اپریل 2013 کی رپورٹ کے مطابق اسی ری شیڈولنگ سے ادائیگی کا عرصہ 8 سال بڑھا، جبکہ 2014 کے آڈٹ پیرا میں اعتراض اٹھا کہ سی ڈی اے نے لیز کی شرائط غیر قانونی طور پر بدلیں۔ یہی سلسلہ دکھاتا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں مسئلہ کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نہیں تھا؛ ہر دور میں ایک نئی رعایت نے پچھلی رعایت کو سہارا دیا۔

اشتہار ہوٹل کا تھا، فلیٹس کہاں سے آ گئے؟

2004 کے اشتہارات اور بولی کی دستاویزات میں پلاٹ کا مقصد فائیو اسٹار ہوٹل بتایا گیا تھا۔ بولی دینے والوں کو بھی یہی بتایا گیا کہ یہاں ہوٹل بنے گا۔ سی ڈی اے نے 25 فروری 2005 کو وضاحت کی کہ سروسڈ اپارٹمنٹس ہوٹل پراپرٹی کا حصہ ہوں گے، ہوٹل انتظامیہ کے تحت چلیں گے، مگر فروخت نہیں ہوں گے۔ دکانوں کے بارے میں بھی کہا گیا کہ انہیں فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ وضاحت فیصلہ کن تھی۔ اگر اپارٹمنٹس فروخت نہیں ہو سکتے تھے تو بعد میں خریدار کیسے آئے؟ بکنگ کیسے ہوئی؟ ادائیگیاں کیسے لی گئیں؟ اور سی ڈی اے نے اسے وقت پر کیوں نہیں روکا؟
یہاں سی ڈی اے کی بڑی کمزوری سامنے آتی ہے۔ اس نے شروع میں اصول بتا دیا، مگر بعد میں اس اصول پر سختی سے عمل نہیں کرایا۔ منصوبے میں سروسڈ اپارٹمنٹس، ہوٹل ٹاور اپارٹمنٹس، بینک فنانسنگ، تیسرے فریق کے حقوق اور خریداروں کا پورا نظام بنتا رہا۔ سی ڈی اے خط و کتابت کرتا رہا، مگر فیصلہ کن کارروائی وقت پر نہیں ہوئی۔

بولی ایک گروپ نے دی، لیز دوسری کمپنی کو کیسے ملی؟

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بولی 4 کمپنیوں کے کنسورشیم نے دی تھی۔ ان میں بسم اللہ ٹیکسٹائل، نیاگرا ملز، پیراگون سٹی اور بلحسا انٹرنیشنل شامل تھیں۔ بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ خود بولی کے عمل میں بطور الگ کمپنی شریک نہیں تھی۔ اس کے باوجود 28 جولائی 2005 کو لیز بی این پی کے نام کر دی گئی۔
یہ معمولی بات نہیں تھی۔ سرکاری زمین اسی کمپنی یا گروپ کو ملنی چاہیے تھی جو باقاعدہ بولی کے عمل کا حصہ ہو۔ مگر یہاں لیز ایک ایسی کمپنی کے نام ہوئی جس کی قانونی حیثیت پر بعد میں خود سی ڈی اے کو سوال اٹھانا پڑا۔
سی ڈی اے کو 2011 میں احساس ہوا کہ بی این پی اصل بولی دہندہ کنسورشیم نہیں تھی۔ اس نے وضاحت بھی مانگی، مگر معاملہ وہیں دب گیا۔ اگر 2011 میں سخت کارروائی ہو جاتی تو شاید منصوبہ اس مقام تک نہ پہنچتا جہاں خریدار، بینک، عدالتیں اور سیاسی دباؤ سب ایک ساتھ آ گئے۔

بینک گارنٹی موجود نہ تھی تو سی ڈی اے نے منصوبہ کیسے چلنے دیا؟

جب 2005 میں بولی منظور ہوئی تو شرائط صاف تھیں۔ کمپنی کو مقررہ وقت میں رقم کا ایک حصہ جمع کرانا تھا۔ اس کے ساتھ بینک گارنٹی اور پرفارمنس گارنٹی بھی دینی تھی۔ عام زبان میں اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر بلڈر ادائیگی نہ کرے، منصوبہ مکمل نہ کرے، یا معاہدے کی شرطیں توڑے تو سی ڈی اے بینک سے رقم وصول کر سکے اور سرکاری نقصان کم ہو۔
بعد میں عدالتی ریکارڈ سے سامنے آیا کہ یہ مالی ضمانتیں سی ڈی اے کے پاس موجود نہیں تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلڈر کے خلاف فوری مالی کارروائی کرنا مشکل ہوتا گیا۔ اگر سی ڈی اے کے پاس درست اور قابلِ وصول بینک گارنٹی موجود ہوتی تو ادارہ صرف نوٹس بھیجنے تک محدود نہ رہتا، بلکہ رقم ضبط کر کے بلڈر پر فوری دباؤ ڈال سکتا تھا۔
یہیں سی ڈی اے کی بڑی نرمی سامنے آتی ہے۔ اس نے بلڈر کو زمین بھی دے دی، ادائیگیوں میں وقت بھی دیا، منصوبہ بھی چلنے دیا، مگر وہ مالی تحفظ ہاتھ سے جانے دیا جو ایسے بڑے منصوبے میں ریاست کے مفاد کو محفوظ رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بلڈر کو تعمیر، تاخیر اور خریداروں سے وصولی کا موقع ملتا رہا، جبکہ سی ڈی اے کے پاس عملی دباؤ ڈالنے کا مؤثر ذریعہ کم ہوتا گیا۔

سی ڈی اے نے بی این پی کو ادائیگیوں میں بار بار رعایت کیوں دی؟

بی این پی نے 2006 میں قسطوں کی ری شیڈولنگ مانگی۔ 2007 میں معاملہ ای سی سی کے پاس گیا۔ وہاں یہ رائے دی گئی کہ سی ڈی اے بورڈ خود فیصلہ کر سکتا ہے، مگر اسے ری شیڈولنگ کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے باوجود سی ڈی اے بورڈ نے چئیرمین کامران لاشاری کی سربراہی میں ادائیگیوں کا شیڈول بدل دیا۔
پھر 2007 میں لیز ڈیڈ میں ترمیم ہوئی۔ 2012 میں سیٹلمنٹ ہوئی۔ 2013 میں ایک اور ترمیم کے ذریعے ادائیگی کا سلسلہ 2026 تک بڑھا دیا گیا۔ یوں ایک منصوبہ، جس کی رقم وقت پر وصول ہونی چاہیے تھی، کئی برس تک رعایتوں پر چلتا رہا۔
یہ صرف قسطوں کا معاملہ نہیں تھا بلکہ شفافیت کا سوال تھا۔ جب اشتہار دیا گیا تو شرائط سب کے سامنے تھیں، مگر بعد میں وہی شرائط ایک مخصوص کمپنی کے لیے بدلتی رہیں۔ اس سے باقی ممکنہ بولی دہندگان کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی اور سرکاری خزانے کو بھی نقصان کا خطرہ بڑھا۔

اپارٹمنٹس منع تھے، پھر بھی بکنگ کیسے چلتی رہی؟

2007 میں سی ڈی اے نے کمپنی کے آرکیٹیکٹس کو بتایا کہ لگژری اپارٹمنٹس کی اجازت نہیں۔ صرف منظور شدہ حد تک سروسڈ اپارٹمنٹس ہو سکتے ہیں۔ 2008 میں کمپنی نے سی ڈی اے سے کہا کہ منصوبے کے حصے بینکوں یا تیسرے فریقوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ سی ڈی اے نے انکار کیا اور جواب دیا کہ منصوبے کا کوئی حصہ تیسرے فریق کو ذیلی لیز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں معاملہ رک جانا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اسی سال کمپنی نے سی ڈی اے کو خط لکھا کہ مارکیٹ میں یہ غلط تاثر ہے کہ وہ رہائشی اپارٹمنٹس بنا اور بیچ رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ صرف منظور شدہ سروسڈ اپارٹمنٹس بنا رہی ہے۔
بعد میں عدالت کے سامنے 240 اپارٹمنٹس کی فروخت کی تفصیل آ گئی۔ یہ اس کیس کا سب سے واضح تضاد ہے۔ ایک طرف کمپنی سی ڈی اے کو فروخت سے انکار کر رہی تھی، دوسری طرف خریداروں سے اربوں روپے وصول ہو رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سی ڈی اے نے مارکیٹ، اشتہارات، بکنگ اور وصولیوں پر نظر کیوں نہیں رکھی؟

کیا سی ڈی اے کی مبہم لیز نے بینک آف پنجاب کو اس تنازع میں شامل کیا؟

بینک آف پنجاب کا تذکرہ اس غیرقانونی عمارت کے معاملے میں اس لیے آیا کہ لیز ڈیڈ میں ایسی گنجائش موجود تھی جسے بی این پی نے قرض لینے کے لیے استعمال کیا۔ لیز کی زبان میں منصوبے کے حقوق منتقل کرنے، رہن رکھنے یا مالی اداروں کے سامنے اسے ضمانت کے طور پر پیش کرنے کی گنجائش تھی۔ سی ڈی اے کا مؤقف یہ رہا کہ یہ سہولت صرف منصوبے کی فنانسنگ کے لیے تھی، فلیٹس بیچنے یا مستقل حقوق منتقل کرنے کے لیے نہیں۔
عام زبان میں بات یہ ہے کہ سی ڈی اے نے ایک ایسا معاہدہ کیا جس میں ابہام موجود تھا۔ ایک طرف سی ڈی اے کہتا رہا کہ اپارٹمنٹس فروخت نہیں ہو سکتے، دوسری طرف اسی لیز کی زبان نے بلڈر کو یہ موقع دیا کہ وہ منصوبے کو بینک کے سامنے مالی اثاثے کے طور پر دکھا سکے۔ یوں معاملہ صرف سی ڈی اے اور بلڈر کے درمیان نہیں رہا بلکہ بینک، خریدار اور منصوبے کی مالی ذمہ داریاں بھی اس میں شامل ہو گئیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ سی ڈی اے نے بینک قرضے کی ہر تفصیل کی باقاعدہ اجازت دی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نے ایسا مبہم ڈھانچہ کیوں بنایا جس میں ہوٹل منصوبہ، اپارٹمنٹس، خریداروں کی رقم اور بینک فنانسنگ ایک ہی جگہ جمع ہو گئے۔ یہی ابہام بعد میں بلڈر کے لیے سہولت اور سی ڈی اے کے لیے قانونی مشکل بن گیا۔

بلڈر نے اربوں روپے میں اپارٹمنس بیچنے کے باوجودسی ڈی اے کو ادائیگی کیوں نہیں کی؟

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس کا سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ سی ڈی اے کو سرکاری زمین کی پوری قیمت نہیں ملی، مگر اسی زمین پر بننے والے فلیٹس سے بلڈر نے اربوں روپے وصول کر لیے۔ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کے مطابق 2017 تک بی این پی نے سی ڈی اے کو صرف 1 ارب 22 کروڑ 72 لاکھ 53 ہزار روپے ادا کیے تھے، جبکہ 3 ارب 65 کروڑ 49 لاکھ 98 ہزار روپے ابھی واجب الادا تھے۔ اسی دوران بی این پی نے 240 اپارٹمنٹس 7 ارب 19 کروڑ 11 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت کیے اور خریداروں سے 5 ارب 39 کروڑ 80 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کر لیے۔
بعد میں 2019 میں سپریم کورٹ نے بی این پی کو ایک نیا راستہ دیا۔ لیز بحال ہوئی، مگر کل قابلِ ادائیگی رقم 17.5 ارب روپے مقرر کی گئی۔ یہ رقم 8 سال میں ادا ہونی تھی اور ریاستی مفاد کے تحفظ کے لیے بینک گارنٹی بھی لازمی تھی۔ اس مرحلے پر بی این پی نے مزید ادائیگیاں کیں، مگر 2026 کے فیصلے کے مطابق کمپنی پھر بھی طے شدہ شیڈول پر پوری نہ اتر سکی۔
2026 کے فیصلے کے مطابق بی این پی 2022 کی 2 ارب 91 کروڑ روپے کی قسط جمع نہ کرا سکی اور مطلوبہ بینک گارنٹی بھی پوری نہ ہوئی۔ اسی بنیاد پر سی ڈی اے نے 2023 میں لیز دوبارہ منسوخ کی، اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2026 میں یہ منسوخی برقرار رکھی۔ سادہ الفاظ میں، پہلے بلڈر نے خریداروں سے اربوں روپے وصول کیے مگر سی ڈی اے کو مکمل ادائیگی نہ کی؛ پھر سپریم کورٹ کے دیے گئے نئے موقع پر بھی ادائیگی اور گارنٹی کی بنیادی شرط پوری نہ ہو سکی۔حاصل کلام یہ ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس میں بی این پی نے قانون توڑا، مگر سی ڈی اے نے اسے روکنے کے بجائے راستہ دیا۔ ماسٹر پلان میں تبدیلی سے لے کر لیز، بلندی، قسطوں، مالی ضمانتوں، اپارٹمنٹس کی بکنگ اور بینک فنانسنگ تک ہر مرحلے پر سی ڈی اے کے چیئرمین، بورڈ اور افسران موجود تھے۔ اس لیے یہ معاملہ صرف بلڈر کی نادہندگی نہیں، سرکاری اختیار کے غلط استعمال، کمزور نگرانی اور غیر قانونی سہولت کاری کا کیس ہے۔

محمد اکمل خان اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکومینٹری فلم پروڈیوسر ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی تنازعات، دہشت گردی، توانائی، سماجی مسائل اور سیاحت کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔