اگر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا عدالت سے غیر قانونی قرار پانے والا منصوبہ 2 دہائیوں تک قانون، لیز، ادائیگیوں اور زمین کے استعمال کے سوالات میں گھرا رہا تو اس کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا بلڈر واقعی وہ” شریف“ کاروباری فریق تھا جو عمارت بنا کر قانونی پیچیدگیوں میں پھنس گیا؟ کیا اپارٹمنٹ خریدار مکمل طور پر معصوم متاثرین ہیں؟ اور کیا سی ڈی اے سمیت ریاستی ادارے صرف نااہل تھے؟ یا یہ سب عوامل مل کر اس نظام کی تصویر بناتے ہیں جہاں طاقتور اشرافیہ کے سامنے قانون موم کی ناک بن جاتا ہے، جسے تھوڑے سے دباؤ سے کسی بھی سمت موڑا جا سکتا ہے؟
عدالت میں 240 اپارٹمنٹس کی بکنگ فہرست جمع ہوئی تو معاملہ صرف بلڈر اور سی ڈی اے کا نہیں رہا۔ خریدار سامنے آ گئے، ان کی رقم، رہائش اور دعوے بھی بحث کا حصہ بن گئے۔ مگر اسی فہرست میں کئی ایسے نام بھی سامنے آئے جو سیاست، قانون، حکومت، صحافت اور پالیسی سازی کے حلقوں میں اہم مقام رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “معصوم اشرافیہ” کی دلیل کمزور دکھائی دیتی ہے، کیونکہ عام شہری کی لاعلمی اور طاقتور شخص کی خود ساختہ لاعلمی ایک قرار نہیں دی جا سکتی۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں اشرافیہ کے مفاد کا سوال اسی لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا خریدار صرف متاثرین تھے، یا بااثر ناموں کی موجودگی نے عدالتی طور پر غیر قانونی قرار پانے والے رہائشی منصوبے کو انسانی بحران اور سیاسی ریلیف کے مقدمے میں بدلنے میں مدد دی؟ یہی سوال بلڈر کی ذمہ داری، سی ڈی اے کی خاموشی، ایف آئی اے کے الزامات، سپریم کورٹ کے 17.5 ارب روپے والے نظریہ ضرورت کے تحت دیے گئے راستے، اور سوشل میڈیا پر بننے والے بیانیے کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی بنیاد صرف 2005 کی لیز یا بعد میں فلیٹس کی فروخت سے نہیں پڑی۔ اس عمارت کا پہلا پتھر اس وقت رکھا گیا جب 1997 میں وفاقی کابینہ کے ذریعے سی ڈی اے کے اسلام آباد ماسٹر پلان میں تبدیلی کر کے شاہراہِ دستور کے اس حساس مقام پر بلند اور کمرشل نوعیت کے منصوبے کی گنجائش پیدا کی گئی۔
اس فیصلےسے ریاستی سطح پر” چائنہ کٹنگ“ کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے پہلے زمین کے اصل استعمال کو بدلا، پھر ہوٹل کے نام پر زمین کے کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کا راستہ کھولا، اور آخر میں یہی طریقہ کار رہائشی فلیٹس کی غیر قانونی فروخت تک جا پہنچا۔ اس لیے اس کیس کو صرف ایک بلڈر کی چالاکی یا سی ڈی اے کی بعد کی خاموشی تک محدود کرنا مکمل تصویر نہیں دکھاتا؛ خرابی کی ابتدا ریاستی فیصلے سے ہوئی تھی۔
کیا اپارٹمنٹ خریداروں کی خاموشی غیر قانونی منصوبے کے تحفظ کا ذریعہ بنی؟
اشرافیہ کے مالی مفاد کا سوال اسی بکنگ فہرست سے واضح ہوجاتا ہے، جو بی این پی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش کی۔ جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے میں ریکارڈ ہوا کہ بی این پی نے عدالت کے سامنے 240 اپارٹمنٹس کی فروخت کی تفصیل رکھی، جن کی مجموعی قیمت 7 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد تھی، جبکہ کمپنی نے خریداروں سے 5 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کرنے کا اعتراف کیا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب صرف بلڈر اور سی ڈی اے کے درمیان لیز یا واجبات کا تنازع نہیں رہا تھا۔ خریداروں کی ادا کی ہوئی رقم، رہائش اور دعوے بھی اس میں شامل ہو چکے تھے۔ یہی غیر قانونی منصوبوں کا وہ عام طریقہ ہے جس میں پہلے تعمیر آگے بڑھتی ہے، پھر خریدار شامل ہوتے ہیں، پھر رہائش شروع ہوتی ہے، اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ اب اتنے لوگوں کو کیسے متاثر کیا جائے۔ اس طرح اصل قانونی سوال انسانی مسئلے میں بدلنے لگتا ہے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں بھی عدالتی فیصلے میں غیر قانونی قرار دیے گئے 240 اپارٹمنٹس کی فہرست نے یہی سوال پیدا کیا کہ کیا خریدار واقعی صرف متاثرین تھے، یا ان کی موجودگی غیر قانونی فلیٹس کو بچانے کا دباؤ بھی بن گئی؟
اس فہرست میں عام خریداروں اور کمپنیوں کے ساتھ کئی نمایاں نام بھی درج تھے۔ عدالت میں جمع کروائی گئی بکنگ تفصیلات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان، شاندانہ گلزار، کشمالہ طارق، اعتزاز احسن، برجیس طاہر، سابق نگران وزیراعظم ناصر الملک اور دیگر بااثر شخصیات کے نام بھی اس عمارت سے جوڑے گئے۔ کسی فرد کا نام فہرست میں ہونا مجرمانہ نیت ثابت نہیں کرتا، مگر یہ سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ اتنے بااثر خریداروں نے لیز، زمین کے استعمال، فروخت کے حق اور سی ڈی اے کی اجازتوں کی جانچ کیسے نہیں کی؟
اسی فہرست کا ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ ہر اپارٹمنٹ کے سامنے بکنگ قیمت اور وصول شدہ رقم درج تھی، مگر ابھی یہ مکمل طور پر سامنے آنا باقی ہے کہ کس خریدار نے اصل قیمت کتنی ادا کی، کتنی اقساط خود دیں، کتنی رقم کسی اور ذریعے سے آئی، اور کن خریداروں نے صرف ابتدائی ادائیگی کے بعد اپارٹمنٹ کی ملکیت حاصل کر لی۔ اگر خریداروں کو انسانی بحران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو پھر ان کی اصل مالی ذمہ داری، ادائیگی کا ریکارڈ اور اس غیر قانونی عمارت کے تحفظ میں ان کے اثرورسوخ کا کردار بھی سامنے آنا چاہیے۔
عام خریدار سرکاری منظوری، بڑی عمارت اور سی ڈی اے کی خاموشی دیکھ کر دھوکا کھا سکتا ہے، مگر یہ عام ہاؤسنگ اسکیم نہیں تھی۔ یہ شاہراہِ دستور پر اربوں روپے کی لگژری عمارت تھی۔ ایسے منصوبے میں سابق وزیراعظم، بڑے قانون دان، سابق افسر، سیاستدان یا سینئر صحافی کے لیے “ہمیں علم نہیں تھا” یا “ہمیں دھوکے میں رکھا گیا” جیسے دلائل کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ اسی لیے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے خریداروں کو صرف مظلوم متاثرین کے طور پر پیش کرنا مکمل تصویر نہیں دیتا۔
خریداروں کی ذمہ داری کا سوال اس لیے بھی سخت ہو جاتا ہے کہ یہ معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا۔ کم از کم 2016 کی لیز منسوخی، 2017 کے اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے، 2019 کے سپریم کورٹ کے نظریہ ضرورت کے تحت دئیے گئے مشروط فیصلے، اور پھراقساط کی عدم ادائیگی کے بعد خریدار یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں منصوبے کی قانونی حیثیت کا علم ہی نہیں تھا۔
اگراشرافیہ یعنی خریدار گزشتہ ایک دہائی تک اس تنازع، عدالتی کارروائیوں، لیز کی منسوخی، ادائیگیوں کے ڈیفالٹ اور فلیٹس کی قانونی حیثیت پر خاموش رہے، تو یہ خاموشی بھی اس غیر قانونی عمل میں معاونت کا باعث تھی۔ خاص طور پر بااثر خریداروں کے لیے یہ دلیل کمزور ہے کہ وہ صرف آخری کارروائی کے وقت متاثرین بن کر سامنے آئیں، مگر اس سے پہلے منصوبے کی غیر قانونی بنیاد، بلڈر کی نادہندگی اور سی ڈی اے کی نرمی پر خاموش رہیں۔
کون سی 4 دستاویزات اس مقدمے کی اصل حقیقت سمجھنے میں معاون ہیں؟
240 اپارٹمنٹس کی بکنگ فہرست اکیلی دستاویز نہیں، مگر یہی وہ ریکارڈ ہے جو خریداروں کو اس کیس میں مرکزی حیثیت میں لے آتا ہے۔ اس مقدمے کو سمجھنے کے لیے 4 دستاویزات کو ساتھ پڑھنا ضروری ہے: ایف آئی اے کی 2017 کی انکوائری رپورٹ، جسٹس اطہر من اللہ کا 2017 کا تفصیلی فیصلہ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی خریداروں کی فہرست، اور جسٹس سرفراز ڈوگر کا حالیہ تفصیلی فیصلہ، جس میں بی این پی لمیٹڈ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سی ڈی اے کی کارروائی کو درست قرار دیا گیا۔
ان چاروں دستاویزات کو سامنے رکھیں تو معاملہ صرف قسطوں کی عدم ادائیگی یا انتظامی کارروائی کا نہیں رہتا۔ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ سرکاری زمین ایک ایسی کمپنی کو کیسے دی گئی جس کی بولی کے عمل میں حیثیت ہی متنازع تھی؟ فلیٹس اس وقت کیسے بک اور فروخت ہوئے جب سروسڈ اپارٹمنٹس کی فروخت ممنوع تھی؟ سی ڈی اے نے اپنی قانونی ذمہ داری بروقت کیوں پوری نہیں کی؟ اور خریداروں میں شامل بااثر ناموں نے اس منصوبے کی قانونی حیثیت کی جانچ کیوں نہیں کی؟
کیا سرکاری زمین کی لیز شفاف عمل کے بغیر منتقل ہوئی؟
ایف آئی اے کی 2017 کی انکوائری رپورٹ اس منصوبے کے آغاز، کمپنی کی حیثیت، لیز، گارنٹیز اور ریکارڈ سے متعلق سنگین سوال اٹھاتی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق بولی کے بعد کمپنی کی ساخت اور لیز کے عمل میں غیر معمولی تبدیلیاں ہوئیں۔
عبدالحفیظ شیخ نے اپنی خاندانی کمپنی ایلیٹ ہوم فیشن ڈیزائن پرائیویٹ لمیٹڈ کا نام تبدیل کر کے بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ رکھا، اور پھر لیز اسی کمپنی کے نام پر ہوئی۔ ایف آئی اے کا مؤقف تھا کہ یہ کمپنی اصل بولی کے عمل میں پری کوالیفائیڈ نہیں تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے میں بھی یہی بنیادی سوال سامنے آیا۔ فیصلے کے مطابق بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ اصل کنسورشیم کا حصہ نہیں تھی۔ ریکارڈ پر یہ واضح نہیں تھا کہ بولی میں شریک نہ ہونے والی ایک الگ کمپنی کو لیز ڈیڈ کرنے اور پھر عمارت بنانے کی اجازت کیسے دی گئی۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ 4 کمپنیوں یعنی بسم اللہ ٹیکسٹائل، نیاگرا ملز، پیراگون سٹی اور بلحسا انٹرنیشنل نے بی این پی گروپ کے نام سے بولی دی تھی، جبکہ لیز بعد میں ایک ایسی کمپنی کے نام ہوئی جو خود بولی کے عمل کا حصہ نہیں تھی۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ بلڈر نے قسطیں ادا کیں یا نہیں۔ سوال یہ بنتا ہے کہ سرکاری زمین ایک ایسی کمپنی کے نام کیسے منتقل ہوئی جس کی اصل بولی میں حیثیت ہی متنازع تھی۔
ایف آئی اے کی دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا کہ جوائنٹ سب رجسٹرار نے مکمل ادائیگی اور عمارت کے تکمیلی سرٹیفکیٹ جیسے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث لیز ڈیڈ رجسٹر کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں یہ لیز رینٹ کنٹرولر/سول جج کے ذریعے رجسٹر ہوئی۔ ایک بڑے سرکاری پلاٹ کی لیز اگر معمول کے شفاف اور غیر متنازع راستے سے نہیں گزری تو یہ صرف تکنیکی نقص نہیں، پورے منصوبے کی قانونی بنیاد پر سوال ہے۔
جب اپارٹمنٹس کی فروخت منع تھی تو بکنگ کیسے شروع ہوئی؟
جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے نے اس ابہام کو مزید واضح کیا۔ فیصلے کے مطابق سی ڈی اے نے 25 فروری 2005 کو تمام بولی دہندگان کو صاف بتایا تھا کہ سروسڈ اپارٹمنٹس ہوٹل پراپرٹی کا حصہ ہوں گے، ہوٹل انتظامیہ کے تحت چلیں گے، مگر فروخت نہیں ہوں گے۔ دکانوں کے بارے میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ وہ فروخت کے لیے نہیں ہوں گی۔ اسی فیصلے میں یہ بھی ریکارڈ ہوا کہ پلاٹ کا مقصد فائیو اسٹار ہوٹل، سروسڈ اپارٹمنٹس اور متعلقہ سہولتیں تھا، نہ کہ رہائشی اپارٹمنٹس کی فروخت۔
کیا خریداروں کی موجودگی غیر قانونی اپارٹمنٹس کی فروخت کا جواز بن سکتی ہے؟
خریداروں کی فہرست بتاتی ہے کہ 240 اپارٹمنٹس کی بکنگ نے اس غیر قانونی منصوبے کو مالی دعووں اور انسانی بحران کے فریم میں بدل دیا۔ مگر مالی دعویٰ قانونی حق نہیں بن سکتا، خاص طور پر جب اصل فروخت ہی عدالتی فیصلے کے مطابق غیر قانونی بنیاد پر کھڑی ہو۔
یہاں اب بھی چند اہم سوال باقی ہیں کہ کس خریدار نے اصل قیمت کتنی ادا کی، کتنی اقساط خود دیں، کتنی ادائیگی کسی اور ذریعے سے ہوئی، اور کن لوگوں نے صرف ابتدائی ادائیگی کے باوجود اپارٹمنٹ پر مضبوط دعویٰ قائم رکھا؟ اگر خریداروں کو انسانی بحران کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو پھر ان کی اصل مالی ذمہ داری، ادائیگی کا ریکارڈ اور منصوبے کے تحفظ میں ان کے اثرورسوخ کا کردار بھی سامنے آنا چاہیے۔
یہی سوال اس مقدمے کو صرف رہائشیوں کی پریشانی کا معاملہ نہیں رہنے دیتا۔ یہاں خریداروں کی فہرست صرف نقصان کا ریکارڈ نہیں، اثرورسوخ، مالی دعوے اور قانونی ذمہ داری کا سوال بھی ہے۔
کیا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس اپنے قانونی انجام کو پہنچ گیا؟
جسٹس سرفراز ڈوگر کا حالیہ تفصیلی فیصلہ اس پوری کہانی کو منطقی قانونی انجام تک لے آتا ہے۔ اس فیصلے میں بی این پی لمیٹڈ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سی ڈی اے کی کارروائی کو درست قرار دیا گیا۔ فیصلے میں عدالت نے اس مقدمے کو کمرشل رئیل اسٹیٹ، پبلک لا، پبلک ڈویلپمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے پابند احکامات کے مقابل معاملہ قرار دیا ہے۔
اس فیصلے میں 2019 کے سپریم کورٹ کے مشروط فیصلے کی بھی وضاحت کی گئی ہےکہ سپریم کورٹ نے لیز بحال کی تھی، مگر کل قابل ادائیگی رقم 17.5 ارب روپے کر دی گئی تھی۔ ادائیگی 8 سال میں ہونی تھی، اور غیر مشروط بینک گارنٹی ریاستی مفاد کے تحفظ کے لیے لازم تھی۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ادائیگی میں ناکامی یا گارنٹی جمع نہ کرانے کی صورت میں سی ڈی اے کو 30 دن کے نوٹس کے بعد لیز ختم کرنے کا حق حاصل تھا۔
اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بی این پی کا مقدمہ صرف اس دلیل پر کھڑا نہیں رہ سکتا تھا کہ سی ڈی اے نے قبضہ وقت پر نہیں دیا یا ادائیگی کا شیڈول مکمل طور پر واضح نہیں تھا۔
جسٹس سرفراز ڈوگر کے فیصلے کے مطابق سی ڈی اے نے 2023 میں لیز منسوخ کرنے کی کارروائی اس بنیاد پر کی کہ 2022 کی سالانہ قسط 2 ارب 91 کروڑ روپے جمع نہیں کرائی گئی، بینک گارنٹی بھی مطلوبہ رقم کے مطابق نہیں دی گئی، اور بار بار نوٹسز کے باوجود ادائیگی مکمل نہیں ہوئی۔ فیصلے میں یہ بھی ریکارڈ ہوا کہ بی این پی نے صرف 1 قسط ادا کی تھی، اور 2022 کے لیے واجب قسط ادا نہیں کی گئی۔
اس طرح چاروں دستاویزات ایک ہی سمت اشارہ کرتی ہیں۔ ایف آئی اے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس عمارت کی تعمیر کا آغاز مشکوک تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا فیصلہ بتاتا ہے کہ فروخت غیر قانونی تھی۔ خریداروں کی فہرست بتاتی ہے کہ معصوم اشرافیہ اپنے مفاد کے لئے کیسے غیر قانونی عمل میں خاموش رہ کر حصہ دار بنی اور جسٹس سرفراز ڈوگر کا فیصلہ بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے دی گئی چھوٹ کے باوجود بی این پی بنیادی ادائیگی اور گارنٹی کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکی۔
اسی لیے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ صرف ایک عمارت، ایک انتظامی کارروائی یا چند رہائشیوں کی پریشانی نہیں۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں بلڈر، ریگولیٹر، خریدار اور حکومت سب اپنے اپنے مقام پر جواب دہ ہیں۔ طاقتور خریداروں کی موجودگی غیر قانونی فلیٹس کو قانونی نہیں بنا سکتی، بلڈر کی نادہندگی غیر قانونی عمل کا جواز قرار نہیں دی جاسکتی اور سی ڈی اے کی خاموشی ریاستی نااہلی کہہ کر معاف نہیں کی جا سکتی۔





