یومِ مزدور: ایک دن، ایک بیانیہ یا ایک ادھورا وعدہ؟

ہم محنت کش اس دنیا سے جب اپنا حصہ مانگیں گے،
اک کھیت نہیں، اک ملک نہیں ہم ساری دنیا مانگیں گے

مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں مزدور آج بھی اپنا “حصہ” نہیں، صرف زندہ رہنے کا حق مانگ رہا ہے اور وہ بھی اسے پورا نہیں مل رہا۔
یکم مئی دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے ایک ایسا دن جو محنت کش طبقے کی جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کی علامت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دن واقعی مزدور کے نام ہے یا صرف ایک رسمی تعطیل بن کر رہ گیا ہے؟
پاکستان جیسے معاشروں میں یہ دن ایک عجیب تضاد کی علامت بن چکا ہےجہاں مزدور کے نام پر چھٹی تو ہوتی ہے، مگر مزدور خود چھٹی سے محروم رہتا ہے
آج بھی مزدور کے عالمی دن پر منائے جانے والی تقریبات میں کئ مزدور کرسیاں ٹیبل اور دیگر سجاوٹ کا سامان اپنے کندھوں پر اٹھائے چلے جا رہے ہونگے

یہ دن کس کا ہے؟

یومِ مزدور کے موقع پر سوشل میڈیا مزدور کے حق میں نعروں سے بھر جاتا ہے، سرکاری بیانات جاری ہوتے ہیں، اور سیمینارز میں بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت کچھ اور کہانی سناتی ہے۔
دیہاڑی دار مزدور، رکشہ ڈرائیور، فیکٹری ورکر یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے یکم مئی بھی ایک عام دن کی طرح ہوتا ہے۔ ان کے لیے نہ کوئی تعطیل ہے، نہ کوئی تحفظ، نہ کوئی حقیقی نمائندگی۔
یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کو ہر سال دہرایا جاتا ہے، مگر سنجیدگی سے سنا نہیں جاتا۔

یومِ مزدور: ایک دن، ایک بیانیہ یا ایک ادھورا وعدہ؟

قانون موجود، عملدرآمد غائب

پاکستان میں لیبر قوانین موجود ہیں کم از کم اجرت، اوقاتِ کار، اور سیفٹی کے اصول سب تحریر میں درج ہیں۔ مگر مسئلہ قانون کا نہیں، اس کے نفاذ کا ہے۔
کم از کم اجرت اکثر ادا نہیں کی جاتی اوور ٹائم کا کوئی واضح نظام نہیں فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں یہ سب جانتے ہوئے بھی نظام خاموش ہے اور یہ خاموشی ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔

سیفٹی: سب سے بڑا سوال

حالیہ برسوں میں پاکستان میں مزدوروں کے لیے غیر محفوظ حالات صرف ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ نومبر 2025 میں فیصل آباد کی ایک فیکٹری میں بوائلر دھماکے نے درجنوں مزدوروں کی جان لے لی، جب کہ اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے کئی حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس واقعے میں فیکٹری عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جس نے صنعتی حفاظتی نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ اسی طرح بلوچستان کی کانوں میں زہریلی گیس اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مزدوروں کی ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں، جہاں بنیادی حفاظتی سہولیات تک دستیاب نہیں ہوتیں۔ یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان میں مزدوروں کی جان آج بھی سستی ہے، اور حفاظتی قوانین یا تو موجود نہیں یا ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے.

دنیا کہاں کھڑی ہے؟ ہم کہاں؟

دنیا کے کئی ممالک میں مزدوروں کو ہیلتھ انشورنس، پنشن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔
جبکہ پاکستان میں یہ سہولیات اب بھی ایک خواب ہیں اور یہ خواب ہر سال یکم مئی کو مزید واضح ہو جاتا ہے۔

یومِ مزدور: ایک دن، ایک بیانیہ یا ایک ادھورا وعدہ؟

وبا، مہنگائی اور مزدور

گزشتہ چند برسوں میں عالمی وبا اور مہنگائی نے مزدور طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں مزدور ایسے ہیں جو روزانہ کی اجرت پر انحصار کرتے ہیں، اور کسی بھی معاشی بحران کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑتا ہے۔
آج ایک مزدور کی آمدن اس کے بنیادی اخراجات جیسے کہ کھانا، کرایہ، تعلیم انکو پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ایسے میں یومِ مزدور کا جشن ایک طنز معلوم ہوتا ہے۔

مذہب اور اخلاقیات: ایک بھولی ہوئی ہدایت

اسلام نے مزدور کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اسلام مزدور کے حقوق پر واضح اور سخت مؤقف رکھتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ میں تاکید کی گئی ہے کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے۔
یہ تعلیم نہ صرف مذہبی بلکہ اخلاقی اصول بھی ہے مگر افسوس کہ عملی زندگی میں اس پر عملدرآمد کم ہی نظر آتا ہے۔ ہم عبادات میں تو محتاط ہیں، مگر معاملات میں انصاف اکثر پسِ پشت چلا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کی مصنوعی ہمدردی

آج ہر کوئی یومِ مزدور پر ایک پوسٹ کرتا ہے، ایک ہیش ٹیگ لگاتا ہے، اور خود کو ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے:
کیا آپ نے کبھی کسی مزدور کو اس کا پورا حق دیا؟
اگر جواب “نہیں” ہے، تو پھر یہ ساری ہمدردی صرف دکھاوا ہے۔

یومِ مزدور: دن نہیں، امتحان ہے

یومِ مزدور دراصل ایک ٹیسٹ ہے ریاست کا بھی، معاشرے کا بھی، اور ہر فرد کا بھی۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں کا نام نہیں بلکہ ان ہاتھوں کی قدر کا نام ہے جو یہ سب تعمیر کرتے ہیں۔
اب نعرہ نہیں، عمل چاہیے
فیض کا خواب صرف شاعری تک محدود نہیں تھا—وہ ایک حقیقت بن سکتا ہے، اگر ہم چاہیں۔
مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ:
مزدور کو صرف موضوع نہیں، ترجیح بنایا جائے
قوانین کو کاغذ سے نکال کر زمین پر لایا جائے
اور سب سے بڑھ کر، مزدور کو عزت دی جائے
ورنہ ہر سال یکم مئی آئے گا، نظمیں پڑھی جائیں گی، پوسٹس لکھی جائیں گی اور مزدور ویسے ہی پسینہ بہاتا رہے گا بے آواز، بے حق اور بے شناخت۔

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔