ہانگ کانگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ پتلی ہیرے کی جھلیاں بجلی پیدا کر سکتی ہیں، جو صدیوں پرانے مفروضے کو چیلنج کرتی ہیں۔
ہانگ کانگ: (رائیٹ ناؤ نیوز) ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ انتہائی پتلی لچکدار ہیرے کی جھلیاں بجلی پیدا کر سکتی ہیں۔ یہ دریافت صدیوں پرانے مفروضے کو چیلنج کرتی ہے کہ ہیرے بجلی پیدا نہیں کر سکتے۔
ان جھلیوں کی غیر متوقع دریافت ہیرے سے چلنے والے سینسرز اور چھوٹے توانائی کے نظاموں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ ان جھلیوں کا استعمال خودکار طبی امپلانٹس میں بھی ممکن ہے۔
تحقیق کی قیادت الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروفیسر زیکن چو اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر یوآن لن نے کی۔ انہوں نے ہیرے کی جھلیوں کے پیزو الیکٹرک ردعمل کی پیمائش کی۔
یہ تحقیق اس لیے اہم ہے کہ ہیرے کو 1900 کی دہائی سے نان پیزو الیکٹرک مواد سمجھا جاتا تھا۔ اس تحقیق نے ہیرے کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔
واضح رہے کہ ہیرے کو مکینیکل طور پر ڈی فارم کرنے پر برقی وولٹیج پیدا نہ کرنے والا مواد سمجھا جاتا تھا۔ محققین نے جدید ایکسفولیئشن تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے پتلی ہیرے کی جھلی تیار کی اور وولٹیج سگنلز کا مشاہدہ کیا۔















