گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال نے برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا، حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت۔
کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال سے برآمدی شعبوں کو 450 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ 9 روزہ ہڑتال کے دوران برآمد کنندگان نے سی فریٹ چارجز میں اضافے اور کنسائنمنٹس کی اسپیس کی کمی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
برآمدی ایسوسی ایشنز کے چیف کوآرڈینیٹر محمد جاوید بِلوانی نے کہا ہے کہ ہڑتال کے باعث کارگو کی نقل و حرکت مکمل طور پر رک گئی ہے۔ 8 اگست 2026 کو شروع ہونے والی ہڑتال سے فیکٹریوں سے کنٹینرز کی ترسیل متاثر ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کے بعد فریٹ اخراجات میں اضافے سے برآمدات کو نقصان کا خدشہ ہے۔ کنٹینرز بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکے جس سے شپنگ اسپیس ضائع ہوئی۔
محمد جاوید بِلوانی نے کہا کہ دسمبر 2026 کی ہڑتال سے برآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکومت کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی لاجسٹکس نظام یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ہڑتال کے باعث فریٹ چارجز میں 372 فیصد تک کا اضافہ ہوچکا ہے۔ برآمد کنندگان کو ان اضافی اخراجات کی وجہ سے عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت کھونے کا خطرہ ہے۔












