پرانی کتابوں کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے ہو سکتا ہے، امریکی عدالتی فیصلے کا اثر۔
لندن: (رائیٹ ناؤ نیوز) دنیا بھر میں پرانی کتابوں کی فروخت میں اچانک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض کتب فروشوں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان کتابوں کے شوقین افراد سے زیادہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کی وجہ سے ہے۔
آزاد کتب فروشوں نے حالیہ مہینوں میں بڑے آرڈرز کی اطلاع دی ہے، جن میں سینکڑوں کتابیں خرید کر دور دراز گوداموں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ برطانیہ کے نارتھمبرلینڈ میں بارٹر بکس کے مالک نے بتایا کہ کینیڈین کمپنی نے ایک ہی مرتبہ ہزاروں کتابیں خرید لیں۔
کتب فروشوں کو ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ کتابیں کہاں جا رہی ہیں۔ شبہ ہے کہ یہ کتابیں مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی تربیت کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پرانی کتابوں کی فروخت میں اضافے کا تعلق امریکا میں مصنوعی ذہانت کی تربیت سے متعلق عدالتی فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس فیصلے میں کتابوں کو اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کرنا کاپی رائٹ کی خلاف ورزی نہیں قرار دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں کاپی رائٹ قوانین کے تحت کتابوں کی نقل اور تربیتی مواد کے لیے مالک کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اس معاملے نے کتب فروشوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔















