ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ آپ کو اپنے گھر سے باہر نکلنا ہے، مگر دروازے سے باہر ہی راستہ ختم ہو جاتا ہے۔ سڑک تک جانے کے لیے سیڑھیاں ہیں، فٹ پاتھ ٹوٹا ہوا ہے، بس میں چڑھنے کا راستہ نہیں، اسپتال میں لفٹ نہیں اور سرکاری دفتر کی منزل تک پہنچنے کے لیے صرف سیڑھیاں ہیں ۔تو پھرآپ سوچیں اگر یہ سب آپ کی روزمرہ زندگی ہو تو کیا آپ کہیں گے کہ پاکستان آپ کے لیے بھی اتنا ہی قابلِ رسائی ہے جتنا دوسروں کے لیے؟
ہم کہتے ہیں پاکستان سب کا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہروں، عمارتوں، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور عوامی سہولتوں کا بڑا حصہ ایسے افراد کو سامنے رکھ کر نہیں بنایا گیا جو وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں، بصارت سے محروم ہیں، سماعت سے محروم ہیں یا کسی دوسری جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے جو معمولی رکاوٹ ہے، معذور فرد کے لیے وہی رکاوٹ شاید ناممکن عمل بن کر رہ جاتی ہے۔
پاکستان میں معذور افراد کی درست تعداد کا تعین آج بھی ایک چیلنج ہے۔ مختلف ادارے مختلف مقاصد اور طریقۂ کار کے تحت اعداد و شمار مرتب کرتے ہیں، اسی لیے ان میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ افراد کسی نہ کسی نوعیت کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے برعکس، ادارہ شماریات (PBS) کی ویب سائٹ پر شائع کردہ نادرا کے 27 فروری 2025 تک کے رجسٹریشن ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں 7 لاکھ 24 ہزار 767 خصوصی افراد رجسٹرڈ ہیں، جن میں 4 لاکھ 96 ہزار 340 مرد اور 2 لاکھ 28 ہزار 427 خواتین شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 3 لاکھ 81 ہزار 558 رجسٹرڈ افراد پنجاب میں ہیں، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 2 لاکھ 3 ہزار 594، سندھ میں 1 لاکھ 8 ہزار 77، بلوچستان میں 19 ہزار 26 اور اسلام آباد میں 12 ہزار 512 رجسٹرڈ خصوصی افراد موجود ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعداد و شمار مجموعی قومی تعداد سے الگ شمار کیے گئے ہیں۔ دونوں اعداد و شمار میں یہ فرق اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ رجسٹریشن کا نظام ابھی تک معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے تمام افراد کا احاطہ نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے بہت سے افراد سرکاری ریکارڈ سے باہر رہ جاتے ہیں اور تعلیم، صحت، روزگار، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی میں اضافی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال صرف تعداد کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ریاست اور معاشرہ ان شہریوں کے لیے مساوی مواقع اور قابلِ رسائی ماحول کس حد تک فراہم کر رہے ہیں۔
قانونی طور پر دیکھا جائے تو معذروں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو برابر قرار دیتا ہے، جبکہ معذور افراد کے حقوق کے لیے وفاق اور صوبوں میں مختلف قوانین اور ادارے موجود ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق سے متعلق عالمی معاہدے کی بھی توثیق کر چکا ہے۔ روزگار کے لیے مخصوص کوٹے، تعلیم، بحالی اور عوامی سہولتوں تک رسائی کے حوالے سے بھی مختلف اقدامات موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ قانون کی کتاب اور روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلہ اب بھی بہت زیادہ ہے۔
اس فاصلے کو سمجھنے کے لیے لاہور کی کسی عام گلی میں نکلنا کافی ہے۔ ٹوٹے ہوئے فٹ پاتھ، اونچی نیچی سطحیں، کھلے مین ہول، دکانوں کے باہر رکھا سامان، موٹر سائیکلیں اور غلط جگہ کھڑی گاڑیاں ہمارے لیے شاید روزمرہ کی معمولی چیزیں ہیں، لیکن وہیل چیئر استعمال کرنے والے شخص کے لیے یہی راستہ ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔ بصارت سے محروم فرد کے لیے فٹ پاتھ پر کھڑا ایک موٹر سائیکل یا کھلا گڑھا صرف تکلیف نہیں بلکہ خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ ہم نے راستے تو بنائے ہیں، مگر اکثر یہ نہیں سوچا کہ ان راستوں کو استعمال کرنے والے شہری مختلف جسمانی ضروریات بھی رکھتے ہیں۔
یہی مسئلہ عوامی سواری میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک معذور شخص کے لیے صرف بس کا موجود ہونا کافی نہیں؛ بس تک پہنچنے، اس میں داخل ہونے، بیٹھنے اور منزل پر اترنے کی سہولت بھی ضروری ہے۔ کچھ جدید شہری سفری منصوبوں میں رسائی کی سہولتیں بہتر ہوئی ہیں، مگر پورے نظام کو اس معیار پر لانا ابھی باقی ہے کہ ایک شخص اپنی نقل و حرکت کے لیے ہر بار کسی دوسرے کی مدد کا محتاج نہ ہو۔ جب سفر آزاد نہ ہو تو تعلیم، روزگار، علاج اور سماجی زندگی کے باقی حقوق بھی محدود ہو جاتے ہیں۔
ہم بڑے بڑے شاپنگ مال، ریستوران، تفریحی مراکز اور خوبصورت عمارتیں بناتے ہیں۔ لیکن عمارت کی خوبصورتی اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب اس کے دروازے تک وہیل چیئر نہیں پہنچ سکتی۔ کہیں داخلے کے لیے سیڑھیاں ہیں، کہیں لفٹ تک پہنچنا مشکل ہے اور کہیں اندرونی راستہ اتنا تنگ ہے کہ وہیل چیئر کے لیے گزرنا ممکن نہیں۔ سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی سہولتوں میں معذور افراد کے لیے مناسب بیت الخلا بھی شامل ہیں۔ عام بیت الخلا موجود ہونا کافی نہیں؛ چوڑا دروازہ، مناسب جگہ، سہارا دینے والی ریلنگ اور وہیل چیئر کے مطابق ڈیزائن بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کو بازار یا تفریحی مقام تک پہنچا کر بنیادی انسانی ضرورت کے وقت دوبارہ دوسروں کا محتاج بنا دینا دراصل رسائی نہیں، صرف عمارت کا ظاہری انتظام ہے۔
تعلیم میں بھی صورتحال صرف داخلے تک محدود نہیں۔ ایک معذور بچے کے لیے اسکول تک پہنچنے کا راستہ، عمارت میں داخلہ، کلاس روم تک رسائی، مناسب بیت الخلا، تعلیمی مواد اور تربیت یافتہ اساتذہ سب ضروری ہیں۔ بصارت سے محروم طالب علم کے لیے بریل یا قابلِ رسائی تعلیمی مواد، سماعت سے محروم طالب علم کے لیے اشاروں کی زبان اور جسمانی معذوری رکھنے والے بچے کے لیے مناسب عمارت کے بغیر صرف یہ کہنا کہ تعلیم سب کے لیے ہے، کافی نہیں۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جہاں بچے کو پہلے عمارت کی رکاوٹ سے نہیں لڑنا پڑتا۔
روزگار میں بھی یہی فرق دکھائی دیتا ہے۔ معذور افراد کے لیے ملازمتوں میں مخصوص کوٹے موجود ہیں، مگر صرف نشست مختص کر دینا روزگار کا حق پورا نہیں کرتا۔ دفتر تک پہنچنے کے لیے قابلِ رسائی راستہ، مناسب کام کی جگہ، بھرتی کے عمل میں سہولت اور ایسا ماحول بھی چاہیے جہاں کسی شخص کو اس کی معذوری کے بجائے اس کی قابلیت سے جانچا جائے۔ معاشرے میں اب بھی یہ سوچ موجود ہے کہ معذور شخص لازماً دوسروں پر انحصار کرے گا، حالانکہ مناسب سہولت اور موقع ملنے پر وہ تعلیم، کاروبار، ملازمت اور دیگر شعبوں میں مکمل کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس پورے مسئلے میں جنس کا پہلو سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ معذور مرد کے لیے بھی راستے آسان نہیں، لیکن ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں اسے کسی نہ کسی حد تک گھر سے باہر نکلنے، کام کرنے اور اپنے معاملات خود چلانے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ معذور خواتین کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ گھر سے باہر نکلنے پر پابندیاں، خاندان پر زیادہ انحصار، تعلیم اور روزگار کے کم مواقع، سفر میں مشکلات اور معاشرتی رویے انہیں مزید محدود کر دیتے ہیں۔ لاہور کی ایک عام گلی جسے ایک معذور مرد شاید کسی طرح عبور کر لے، وہی راستہ ایک معذور عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی پوری آزادی چھین سکتا ہے۔ اس لیے معذوری کو صرف جسمانی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں؛ عورت ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ جڑنے والی سماجی رکاوٹوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔
صحت کے شعبے میں بھی رسائی کا مطلب صرف اسپتال میں ڈاکٹر کا موجود ہونا نہیں۔ اسپتال تک پہنچنے، عمارت میں داخل ہونے، وہیل چیئر، بحالی کی سہولت، مصنوعی اعضا، سماعت اور بصارت سے متعلق آلات اور تربیت یافتہ عملے تک رسائی بھی ضروری ہے۔ جب علاج کی جگہ تک پہنچنا ہی مشکل ہو تو صحت کا بنیادی حق بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے برقی نظام میں بھی یہی سوال سامنے آتا ہے۔ سرکاری خدمات، بینکاری، تعلیم اور خریداری اب موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہی ہیں، مگر ہر ویب سائٹ اور ہر ڈیجیٹل درخواست کا فارم، بصارت یا دوسری معذوری رکھنے والے افراد کے لیے آسان نہیں۔ اگر ملک کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس میں ہر شہری کی شرکت ممکن ہو۔
یہاں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ معذور افراد کو صرف ترس، ہمدردی یا غیر معمولی کامیابی کی کہانی کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک عام شہری کے طور پر دکھانے کی ضرورت ہے۔ وہ طالب علم بھی ہیں، ملازم بھی، کاروباری بھی، والدین بھی اور معاشرے کے فعال رکن بھی۔ میڈیا اگر معذوری کو خیرات کے بجائے حقوق، برابری اور رسائی کی بحث بنائے تو معاشرتی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخرکار مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ عملدرآمد، منصوبہ بندی اوراحساس کی کمی ہے۔ معذور افراد کو راستہ دکھانے سے زیادہ ضروری ہے کہ راستہ ایسا بنایا جائے جس پر وہ خود چل سکیں۔ ایک قابلِ رسائی پاکستان وہ نہیں جہاں چند عمارتوں کے باہر ڈھلوان راستہ بنا دیا جائے۔ یہ وہ پاکستان ہے جہاں ایک معذور مردو عورت اور بچے اپنے گھر سے نکل سکیں، اپنی گلی سے پرسکون گزر سکیں، عوامی سواری استعمال کریں، بازار اور شاپنگ مال جا سکیں، بیت الخلا کی مناسب سہولت استعمال کر سکیں، تعلیم حاصل کریں، نوکری کریں اور شام کو اپنے گھر واپس بحفاظت لوٹ سکیں، بغیر اس احساس کے کہ ہر قدم پر انہیں کسی کے سہارے کی ضرورت ہے۔
ہم نے پاکستان میں گاڑیوں کے لیے سڑکیں، کاروبار کے لیے عمارتیں اور خریداری کے لیے بڑے بڑے مراکز بنا لیے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم انسانوں کے لیے بھی ایسا ماحول بنائیں جہاں کسی کی جسمانی معذوری اسے شہری ہونے کے حق سے محروم نہ کرے۔کیونکہ ایک ملک کی ترقی کا اصل پیمانہ اس کی بلند عمارتیں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں سب سے کمزور شہری کتنی آزادی سے زندگی گزار سکتا ہےاور شاید اسی لیے آخری سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں معذور افراد کے حقوق موجود ہیں یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان حقوق کو حقیقت میں بدلنے کے لیے راستے بھی بنائے ہیں؟





