مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے دفتری ملازمتوں کا بحران بڑھ رہا ہے، خاص کر نوجوان گریجویٹس کیلئے خطرہ ہے۔ اسٹینفورڈ کی تحقیق کے مطابق AI کا اثر محدود مگر مستقبل میں تشویشناک ہوسکتا ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناؤ نیوز) مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ نے دفتری ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 تک یہ خدشہ مکمل طور پر ثابت نہیں ہوا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں AI بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم کرسکتا ہے۔ اسٹینفورڈ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق، AI کا مجموعی روزگار پر اثر محدود ہے، مگر مستقبل میں یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔
2022 میں AI سے متاثرہ شعبوں میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دفتری ملازمتیں خودکار ہو رہی ہیں، اور کچھ عہدوں کی ذمہ داریاں ضم ہورہی ہیں۔
واضح رہے کہ گریجویٹس اور ابتدائی کیریئر والے ملازمین کیلئے صورتحال تشویشناک ہے۔ امریکہ میں حالیہ گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو قومی اوسط سے زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق AI نئی ملازمتیں بھی پیدا کررہا ہے، جیسے AI کے نظام کی تیاری، نفاذ اور نگرانی۔ تاہم یہ تبدیلیاں فوری نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔















