بلیک ہول اسٹار کی دریافت، خلا کی تاریخ میں نیا باب

خلا میں دریافت ہونے والا ‘بلیک ہول اسٹار’ ماہرین کے لیے نیا فلکیاتی جسم ہے، جس کی دریافت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے ہوئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بلیک ہول اسٹار کی دریافت، خلا کی تاریخ میں نیا باب

امریکہ: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی ماہرینِ فلکیات نے خلا میں ایک نیا فلکیاتی جسم دریافت کیا ہے جسے ‘بلیک ہول اسٹار’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دریافت میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے کی ہے، جو خلا کی وسیع دنیا میں ایک انوکھا اجرام فلکی ہے۔

اس بلیک ہول اسٹار کی دریافت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جسم تقریباً ہمارے نظام شمسی جتنا بڑا ہے اور یہ توانائی میں سو ارب گنا زیادہ چمکدار ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس جسم کے مرکز میں ایک بلیک ہول موجود ہو سکتا ہے جس کی کمیت سورج سے تقریباً ایک لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اس کے گرد ہائیڈروجن گیس کا گھنا بادل موجود ہے۔

یہ دریافت خلا میں موجود دیگر پراسرار سرخ اجسام کی حقیقت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر بلیک ہول اسٹار کا تصور درست ثابت ہوتا ہے تو یہ کئی سوالات کے جوابات فراہم کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے خلا کی ابتدائی تاریخ میں کئی پراسرار سرخ اجسام دریافت کیے ہیں۔ اگر بلیک ہول اسٹار کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ کائنات کے ابتدائی دور میں بلیک ہولز کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں