حکومت نے جوڈیشل کمیشن مؤخر کرتے ہوئے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، میر رضا کیس کا اہم مرحلہ شروع۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ انہوں نے نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ میر رضا کا معاملہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ اچھی شہرت رکھنے والے افسران پر مشتمل ٹیم کا مطالبہ کیا تھا، اور اس وقت جوڈیشل انکوائری کی ضرورت نہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مؤقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور تفتیش پولیس کا آئینی کام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم نے والدین کی معلومات اور خدشات کو تفصیل سے نوٹ کیا ہے۔ آئندہ 3 سے 4 دن میں تحقیقات کی سمت واضح ہو جائے گی۔ پولیس کو تمام مشتبہ افراد اور اہم نکات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ڈی این اے اور دیگر فرانزک نمونوں کی لیب تک عدم پہنچنے کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ جبران ناصر نے کہا کہ فرانزک نمونوں میں تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسران کو جواب دینا ہو گا۔ اگر غفلت ثابت ہوئی تو سخت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ میر رضا کے والد نے کہا کہ آج کی پیش رفت سے کچھ اطمینان ملا ہے۔ کیس اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور امید ہے کہ میرے بیٹے کو انصاف ملے گا۔ نئی تحقیقاتی ٹیم کو مکمل موقع دیا جا رہا ہے اور آئندہ 3 سے 4 دن میں نتائج سامنے آسکتے ہیں۔















