صدر زرداری کی جانب سے جج تقرریوں پر ڈیڈ لاک، حکومتی ٹیم ایوان صدر سے مشاورت کرے گی تاکہ آئینی حل تلاش کیا جا سکے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرریوں پر فیصلہ نہ ہونے سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے۔ اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے اہم مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی قانونی ٹیم اتوار کو ایوانِ صدر کے حکام سے ملاقات کرے گی۔ اس ملاقات کا مقصد معاملے کا آئینی حل تلاش کرنا ہے۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 48(1) کے تحت تقرریوں کے نوٹیفکیشن کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
ایوانِ صدر کی قانونی ٹیم نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ آئین کا آرٹیکل 175-اے صدر کے فیصلے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کرتا۔ بعض نامزد امیدواروں پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق معاملے کو عدالت سے باہر باہمی اتفاق رائے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایوانِ صدر کے ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ اقدام سیاسی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن نے جولائی میں ہائی کورٹس کے اضافی ججوں کی تقرری کی سفارشات منظور کی تھیں۔ ان سفارشات کی سمری وزیراعظم کے ذریعے صدر کو ارسال کی گئی تھی، لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔











