حوثی حملے کے بعد خلیجی بحری راستوں میں تجارتی جہازوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے، جو سکیورٹی خدشات کی علامت ہے۔
دبئی: (رائیٹ ناؤ نیوز) یمن کے حوثی گروپ کے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد خلیج کے اہم بحری راستوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب، میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، بدھ کو آبنائے ہرمز سے صرف دو جہاز گزرے، جبکہ ایک دن قبل یہاں سے آٹھ جہاز گزرے تھے۔ کپلر کے مطابق، پاناما اور مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار جہازوں نے آبنائے ہرمز سے سفر کیا۔
باب المندب میں بھی آمدورفت کم ہوئی، جہاں بدھ کو صرف ایک بہاماس کا جہاز گزرا، جبکہ پہلے یہاں سے 20 جہاز گزرے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی سکیورٹی خدشات اور تجارتی کمپنیوں کی احتیاطی حکمت عملی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔
یہ بحری راستے عالمی تجارت کے لیے اہم ہیں، جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ان راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستے ہیں، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔














