ٹرمپ کی ایران پالیسی پر بحث جاری، سخت بیانات کے بعد یوٹرن، ناقدین کی ٹیکو کی اصطلاح
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر سخت بیانات دیے، مگر عمل درآمد نہیں کیا۔
21 مارچ کو ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کہ آبنائے ہرمز بند رہی تو بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ ڈیڈ لائن میں پانچ دن اور پھر ایک ہفتے کی توسیع کی گئی۔
یکم اپریل کو ایران کو خبردار کیا گیا کہ مؤقف تبدیل نہ کرنے پر فوجی کارروائی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر بھی سخت پیغام دیا گیا، مگر فوری کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
7 اپریل کو سخت بیان پر عالمی سطح پر ردعمل آیا، حقوق تنظیموں نے تشویش ظاہر کی۔ پاکستان کی کوششوں سے عارضی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کی پالیسی میں یوٹرن لینے کی وجہ سے ان کے ناقدین نے ٹیکو کی اصطلاح استعمال کی۔ حامی مذاکرات کو بہتر سفارتی فیصلہ قرار دیتے ہیں۔














