پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا آئینی طریقہ، پارلیمان کی منظوری لازمی

پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے لیے آئینی تقاضے اہمیت رکھتے ہیں۔ پارلیمان اور صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری کے بغیر صوبوں کی تقسیم ممکن نہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا آئینی طریقہ، پارلیمان کی منظوری لازمی

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آئین کے سخت قانونی طریقۂ کار کے تحت ہے۔ آئین کی شق 239 کی ذیلی شق (4) کے مطابق کسی بھی صوبے کی تقسیم کے لیے صوبائی اسمبلی اور پارلیمان دونوں کی منظوری ضروری ہے۔

حالیہ دنوں میں وفاقی وزرا کی جانب سے نئے یونٹس بنانے کے مطالبے کے بعد اس مسئلے پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے صوبے قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔

آئینی طریقۂ کار کے مطابق، صوبے کی تقسیم کے لیے صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس کے بعد پارلیمان میں بھی دو تہائی اکثریت سے ترمیم کی منظوری لازمی ہے۔

آئین کے مطابق، صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی متعلقہ صوبے کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ 2018 میں سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے آئینی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ مستقبل میں جنوبی پنجاب یا ہزارہ کے قیام کے لیے بھی یہی طریقۂ کار اپنانا ہوگا۔

دیگر متعلقہ خبریں