مالی سال 25-2024 کے دوران وفاقی سماجی بہبود کے پروگراموں میں 14 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس سے کنٹرول سسٹم کی کمزوری بھی ظاہر ہوئی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی سماجی تحفظ کے پروگراموں میں 14 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن میں مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
تازہ ترین آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران وفاقی سماجی بہبود اور سوشل سیفٹی نیٹ پروگراموں میں مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ 14 ارب روپے سے زائد کی رقم میں بدعنوانی اور کمزور کنٹرول سسٹم شامل ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کی مالی بے قاعدگیوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ مالی بے ضابطگیاں ملکی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ متاثرہ عوام کی امداد میں بھی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی سماجی تحفظ کے پروگراموں کا مقصد غربت میں کمی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنا ہے، جس کی شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کی یقین دہانی لازمی ہے۔














