پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ میں ترامیم سے غیر قانونی شکار کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان، ماہرین کی جانب سے تحفظ جنگلی حیات کے خدشات کا اظہار۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب حکومت نے وائلڈ لائف ایکٹ میں ترامیم کر کے جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار اور خرید و فروخت کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت شکار شدہ جانور یا پرندے کا معاوضہ، اور شکار کے دوران استعمال ہونے والی گاڑی، موٹر سائیکل اور اسلحہ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ماہرینِ جنگلی حیات نے ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں تحفظ جنگلی حیات کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ بدر منیر نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف اور سیکرٹری وائلڈ لائف کی کوششوں کے باوجود بیوروکریسی کی ترامیم وزیرِاعلیٰ کے وژن کو متاثر کر سکتی ہیں، کیونکہ نیا قانون صرف اختیارات اور جرمانوں تک محدود ہے۔
بدر منیر نے بتایا کہ مثلاً اگر کوئی شکاری گاڑی پر رائفل کے ذریعے ایک تیتر کا غیر قانونی شکار کرے تو اسے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ جال لگا کر درجنوں تیتر پکڑنے پر صرف چند ہزار روپے جرمانہ دینا پڑے گا۔
ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرز سید کامران بخاری نے وضاحت کی کہ ترمیم شدہ قانون کا مقصد صرف مالی جرمانے نہیں بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب غیر قانونی شکار کے مرتکب افراد کو 10 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے، اور شکار کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیاء ضبط کی جائیں گی۔
کامران بخاری نے مزید بتایا کہ وائلڈ لائف افسران کو اب ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس افسر کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے، اور ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے جو آن لائن بھی درج کی جا سکتی ہے۔











