گڈا ہم چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ہمارے والد جیسے بڑے بھائی، کرنل خالد متین، چار سال پہلے دنیا سے رخصت ہوئے تو ہم نے اپنے چھوٹے بھائی عاطف متین پر تکیہ کر لیا تھا کہ اب وہ ہمارا خیال رکھے گا۔ مگر شاید قسمت کو یہ منظور نہ تھا۔
ہمارا خاندان ایک روایتی محبت میں گندھا ہوا خاندان ہے۔ ایسا خاندان جہاں رشتے صرف نام کے نہیں بلکہ نبھائے جاتے ہیں۔ جہاں بڑے صرف نام کے بڑے نہیں ہوتے، گھر کا سائبان بھی ہوتے ہیں، اور چھوٹے صرف چھوٹے نہیں رہتے، سب کی آواز پر دوڑ آنے والی محبت بن جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں عمر کی بڑائی اپنے ساتھ ایک عجیب سا حق بھی لے آتی ہے۔ بڑے جب چاہیں چھوٹوں کو پکار لیں، کوئی کام کہہ دیں، کوئی ذمہ داری ڈال دیں، کوئی حکم محبت کے لہجے میں سنا دیں۔ بظاہر یہ سب پیار ہی لگتا ہے، گھر کی روایت بھی، اپنائیت بھی۔ مگر کبھی کبھی دل سوچتا ہے کہ اس محبت کے اندر کتنی نرمی تھی اور کتنی سختی؟ کہاں شفقت ختم ہوئی اور کہاں وہ پیارا سا جبر شروع ہو گیا جسے ہم سب بڑوں کا حق سمجھ کر قبول کرنا فرض سمجھتے ہیں۔
گڈا سب سے چھوٹا تھا، اس لیے گھر کے چھوٹے بڑے کاموں کے لیے سب سے پہلے اسی کو آواز دی جاتی تھی۔ صرف ہم بھائی ہی نہیں، ہمارے دوست بھی اسے اسی حق سے بلاتے تھے۔ ان دوستوں میں سے کئی بعد میں بڑے صحافی بن گئے۔
گڈا کی صحافت میں آمد بھی کچھ یوں ہوئی کہ شاہ سوار صحافت حسین نقی صاحب نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب میں ملک سے باہر تھا، اور سچ پوچھیں تو میری مرضی کے خلاف ہوا۔ نقی صاحب 1990 میں نئے شروع ہونے والے اخبار دی نیوز کے ایڈیٹر بنے تو انہوں نے ہمارے گڈے کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔
میں نے وطن واپس آنے کے بعد نقی صاحب سے احتجاج کیا۔ میں چاہتا تھا کہ اسے صحافت کی سختیوں سے بچا لوں۔ یہ نجی ٹی وی سے پہلے کا زمانہ تھا جب صحافی کی تنخواہ اتنی کم ہوتی تھی کہ لوگ اپنی بیٹیوں کے رشتے بھی ایسے قلم مزدوروں کو دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔
نقی صاحب کی گرج دار آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے:
”تم بڑے بھائی ہو، خدا بننے کی کوشش نہ کرو۔ اسے اپنا خواب پورا کرنے دو۔“
یوں گڈا صحافی بن گیا، ایک شریف النفس صحافی۔
لیکن بڑے بھائیوں اور بڑی بہنوں کی پوری بٹالین کے لیے وہ ہمیشہ گڈا ہی رہا۔ وہ نیوز ایڈیٹر بنا، مختلف میڈیا ہاؤسز میں ایڈیٹر کے منصب تک پہنچا، مگر اس کا نام گڈا ہی رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس نے کبھی اس بات کا برا نہیں مانا۔ اسے محبت بھری سرپرستی کہیں یا پیار بھرا جبر، گڈا نے اسے ہمیشہ دل سے قبول کیا۔ بلکہ وہ اس رشتے کو عزیز رکھتا تھا۔ چھوٹا سا کام ہو یا کوئی مشکل، پیچیدہ اور سخت معاملہ، وہ ہمیشہ سب کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے تیار رہتا تھا۔
جلد ہی اسے بڑے بھائیوں، بڑی بہنوں، ماؤں اور خالاؤں کی ایک پوری دنیا نے اپنا لیا۔ گڈے میں ایک عجیب صلاحیت تھی، وہ لوگوں کے دل جیت لیتا تھا۔ اس کے ساتھی شاید ہماری فیلڈ کے بہترین لوگ تھے۔ کاملہ حیات، جو فرشتہ صفت تھیں۔ سعدیہ صلاح الدین، جنہیں وہ بھگوان کہتا تھا۔ نازش، جو خود کو اس کی ماں کہتی تھیں۔ فرح ضیا، اس کی خون بدل بہن، کیونکہ گڈےنے اسے اور اس کی بہن ارم کو خون دیا تھا۔
اس کی پسندیدہ ٹولی میں عالیہ رشید جواد، بشریٰ، فوزیہ اور طاہرہ حبیب شامل تھیں۔ یہ سب خوش مزاج لوگ تھے جنہوں نے تھکا دینے والی صحافت کو کچھ آسان، کچھ دل چسپ بنا دیا تھا۔
گڈے کی مشکل یہ تھی کہ وہ ان سب کے لیے گڈا تھا۔ اور اس کا مطلب اکثر یہ نکلتا تھا کہ وہ ایک لاڈلا، عزت دار مگر مستقل کام آنے والا شخص تھا۔ صرف ان خواتین کے لیے نہیں، بلکہ بڑے بھائیوں کی ایک لمبی قطار کے لیے بھی۔ عارف شمیم، محمد مالک، رانا جواد، مصور، اشعر رحمان، عمران منیر، سرمد بشیر، حیدر حسن، وقار مصطفیٰ، یہ تو صرف چند نام ہیں۔
نقی صاحب کے اس شاگرد نے صحافت کے بہترین لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ شاہین صہبائی، نصرت جاوید، عارفہ نور، نجم سیٹھی، ایم اے نیازی، سلیم بخاری، راشد رحمان، اعجاز حیدر، اور ہاں، اس کی اپنی اہلیہ سمیرا عاطف کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔
بہت سے لوگوں کو اس کی ادارتی آزادی پر ضد سے اختلاف ہو سکتا تھا، مگر کسی نے کبھی اس کی دیانت اور پیشہ ورانہ ساکھ پر سوال نہیں اٹھایا۔ یہی وہ خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے موجودہ سیٹھ میڈیا میں اسے کئی برس نوکری کی پیشکش نہ ہوئی۔ اور اگر ہوتی بھی تو شاید وہ قبول نہ کرتا۔
گڈا بہت سی چیزوں کا چیمپئن تھا۔ ٹیبل ٹینس، کرکٹ، تاش، بلیئرڈ، سب میں اس کا اپنا رنگ تھا۔ مگر سب سے بڑھ کر وہ محبت کا چیمپئن تھا۔
پریس کلب کے انتخابات میں اس کی حمایت معنی رکھتی تھی، کیونکہ وہ” یاروں کا یار “تھا۔ وہ ہمیشہ کمزور کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ شہر کا کوئی دھونس جمانے والا آدمی اسے ڈرا نہیں سکتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ یہ کردار نبھاتا تھا۔ خوشی سے نبھاتا تھا۔ بلکہ اس سے لطف لیتا تھا اور آخری دم تک اسی کردار کو نبھاتا رہا۔
اب گڈا چلا گیا ہے۔ہم بھائیوں کے درمیان کچھ کہنے سننے کو رہ ہی نہیں گیا۔ موت چپکے سے آ ئی اور گڈے کو ہم سے چھین کر لے گئی ۔ ہم اسے یاد کرتے ہیں، جیسے لاہور، اسلام آباد اور نہ جانے کہاں کہاں اس کے بے شمار دوست اور ساتھی اسے یاد کر رہے ہیں۔
الوداع گڈا جی۔
ہمارے دوست گلریز معجزنے ایک شعر لکھا ہے، جو گڈے کے بعد ہماری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے۔
ہنستا ہنستا آیا، رُلاتا چلا گیا
ہم ڈور پکڑے رہ گئے، گڈا چلا گیا





