خاموش قاتل: بلڈ پریشر صرف بیماری نہیں، طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے

ہر سال 17 مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ ہائپر ٹینشن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو اس خاموش بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر آہستہ آہستہ انسان کے دل، دماغ، گردوں اور پورے جسم کو متاثر کرتی رہتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی لیے اسے “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے۔

بلڈ پریشر آخر ہے کیا؟

سادہ الفاظ میں بلڈ پریشر اس دباؤ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے خون ہماری شریانوں میں گردش کرتا ہے۔ جب یہ دباؤ معمول سے زیادہ ہو جائے تو اسے ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف غصے یا ٹینشن کی بیماری ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ناقص غذا، نمک کا زیادہ استعمال، ورزش کی کمی، موٹاپا، تمباکو نوشی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ جیسے کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔

خاموش قاتل: بلڈ پریشر صرف بیماری نہیں، طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے

پاکستان میں بڑھتا ہوا خطرہ

پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری، غیر متوازن خوراک اور ذہنی دباؤ نے اس بیماری کو تیزی سے بڑھایا ہے۔ اب صرف بزرگ ہی نہیں بلکہ نوجوان اور یہاں تک کہ یونیورسٹی کے طلبہ بھی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو رہے ہیں۔

پلیٹ میں چھپا خطرہ

ہماری کھانے پینے کی عادتیں بھی ہائی بلڈ پریشر کو تیزی سے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بازاروں کے برگر، پیزا، چپس، اچار، پیکٹ والے اسنیکس اور کولڈ ڈرنکس بظاہر ذائقہ دیتے ہیں مگر ان میں نمک، چکنائی اور شوگر کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ کئی لوگ دن کا آغاز چائے سے کرتے ہیں، دوپہر فاسٹ فوڈ پر گزار دیتے ہیں اور رات دیر سے بھاری کھانا کھا کر سو جاتے ہیں۔

جسم وقتی طور پر شاید یہ سب برداشت کر لے، مگر آہستہ آہستہ یہی عادتیں شریانوں پر دباؤ بڑھا دیتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر بیماری آنے کے بعد پرہیز شروع کرتے ہیں،

حالانکہ صحت مند خوراک ہی وہ پہلی دوا ہے جو ہسپتال پہنچنے سے پہلے انسان کو بچا سکتی ہے۔

موبائل کی اسکرین اور بے سکون راتیں

آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال خاموشی سے صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ رات گئے تک سوشل میڈیا اسکرول کرنا، ویڈیوز دیکھنا یا مسلسل اسکرین کے سامنے رہنا نہ صرف نیند خراب کرتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔ جب انسان پوری نیند نہیں لیتا تو جسم کو آرام نہیں ملتا، دل مسلسل دباؤ میں رہتا ہے اور اگلا دن تھکن اور چڑچڑے پن کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ رات کو موبائل ہاتھ میں لیے سوتے ہیں اور صبح الارم سے پہلے نوٹیفکیشن دیکھتے ہیں، جیسے سکون اب انسان کے دل میں نہیں بلکہ اسکرین کے اندر قید ہو گیا ہو۔

خاموش قاتل: بلڈ پریشر صرف بیماری نہیں، طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے

ایک عام انسان کی کہانی

اکثر ہمارے اردگرد کوئی نہ کوئی ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو روز صبح کام پر جاتا ہے، بچوں کی فیسوں کی فکر کرتا ہے، بجلی کے بل دیکھ کر پریشان ہوتا ہے، اور رات کو تھکا ہارا سو جاتا ہے۔ وہ خود کو بیمار نہیں سمجھتا، مگر اندر ہی اندر اس کا بلڈ پریشر مسلسل بڑھ رہا ہوتا ہے۔

کئی لوگ پہلی بار تب جانتے ہیں کہ انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے جب اچانک چکر آتے ہیں، دل کی تکلیف ہوتی ہے یا ڈاکٹر ایمرجنسی میں یہ انکشاف کرتا ہے۔

خواتین بھی خاموشی سے متاثر

پاکستانی خواتین اکثر گھر والوں کی صحت کا خیال رکھتی ہیں مگر اپنی بیماری کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ گھریلو ذمہ داریاں، ذہنی دباؤ، ہارمونل تبدیلیاں اور آرام کی کمی خواتین میں بھی ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بڑھا رہی ہیں۔

دیہی علاقوں میں تو بہت سی خواتین کبھی اپنا بلڈ پریشر چیک ہی نہیں کرواتیں کیونکہ وہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں اور بیماری کو سنجیدگی سے لینے کا رجحان کم ہے۔

سوشل میڈیا کا ڈاکٹر نہیں، اصل ڈاکٹر ضروری

آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص “گھریلو نسخہ” بتاتا نظر آتا ہے۔ کوئی لیموں کو علاج کہتا ہے، کوئی صرف دیسی ٹوٹکوں پر زور دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے جس کے لیے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ خود علاج بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

علاج صرف دوا نہیں

ہائی بلڈ پریشر کا علاج صرف گولیاں کھانے سے مکمل نہیں ہوتا۔ اصل علاج طرزِ زندگی کی تبدیلی ہے۔
نمک کم استعمال کرنا
روزانہ واک یا ورزش
سگریٹ نوشی سے پرہیز
ذہنی سکون اور مناسب نیند
سبزیاں، پھل اور متوازن غذا
وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر چیک کروانا
یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بڑے خطرات سے بچا سکتی ہیں

ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟

ورلڈ ہائپر ٹینشن ڈے صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ صحت کو ہمیشہ آخری ترجیح نہیں بنانا چاہیے۔ انسان دنیا کی ہر دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے، مگر اگر دل ہی تھک جائے تو کامیابیوں کا کیا فائدہ؟

ہمیں اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کے لیے وقت نکالنا ہوگا۔ کیونکہ بلڈ پریشر کی مشین پر نظر آنے والے نمبرز صرف اعداد نہیں ہوتے، وہ انسان کی زندگی کی کہانی بھی سناتے ہیں۔

سدرہ عابد لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک لکھاری ہیں، جنہوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے، وہ سماجی مسائل ، ادب اور طنزیہ مزاحیہ موضوعات پر لکھتی ہیں۔