اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردہ اعدادوشمار نے ملک میں تعلیم کی تشویشناک صورتحال کو اجاگر کیا ہے، جس میں اڑھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت اسکولوں سے باہر ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار نے ملک میں تعلیم کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 5 سے 16 سال کے بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ وزارت کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 90 لاکھ 60 ہزار بچے اسکول نہیں جا رہے۔
سندھ میں 70 لاکھ 82 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 40 لاکھ 92 ہزار ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 9 ہزار بچے تعلیم کی سہولت سے محروم بتائے گئے ہیں۔
ان اعدادوشمار نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کی سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ ملک کی ترقی کے لئے بڑی رکاوٹ ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں تعلیم کی شرح کم ہونے کے باعث حکومت کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے کئی بار تعلیمی اصلاحات کے وعدے کیے ہیں، لیکن عملی اقدامات کی کمی دیکھی گئی ہے۔















