استنبول میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں غزہ میں سیز فائر اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
استنبول: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پیر کے روز اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور اسرائیلی افواج کے انخلا اور فلسطینی علاقوں میں فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی جبکہ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔
شرکاء نے اسرائیل کی جانب سے سیزفائر کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی افواج سے فوری فلسطینی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے امداد کی فوری رسائی یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ غزہ میں سیز فائر اور امن کے لیے کردار ادا کریں۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی بند کرنی چاہیے اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
پاکستان نے اس موقع پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اصولی موقف کی توثیق کی۔











