خواتین میں ذیابیطس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، جس کے سنگین اثرات مردوں کی نسبت زیادہ ہیں۔ ماہرین نے ہارمونل تبدیلیوں اور غیر متوازن غذا کو اہم وجوہات قرار دیا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خواتین میں ذیابیطس کے بڑھتے کیسز نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس بیماری کے اثرات مردوں کی نسبت خواتین پر زیادہ سنگین ثابت ہوتے ہیں۔
طبی رپورٹس کے مطابق، دنیا بھر میں مردوں میں ذیابیطس کے مریض زیادہ ہیں، تاہم خواتین میں اس کے نتائج زیادہ خطرناک سامنےآتے ہیں۔ خواتین میں دل کی بیماری کا خطرہ 150 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، خواتین کے جسم میں ہارمونل تبدیلیاں اس خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ بلوغت، ماہواری، حمل اور مینوپاز کے دوران ہارمونز میں تبدیلیاں خون میں شوگر کنٹرول کو متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہرمونل تبدیلیوں کے علاوہ، پیٹ کے گرد چربی، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن غذا بھی خطرہ بڑھاتے ہیں جبکہ پراسیسڈ فوڈ کا زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہے۔
واضح رہے کہ حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس بھی بعد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے خواتین کو متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کی ترغیب دی ہے۔















