ایران نے جہازوں کی آمد و رفت پر فیس نہیں لگائی، مگر پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔ امریکی اور اسرائیلی جنگی جہازوں کے لیے آبنائے بند ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی فیس عائد نہیں کی ہے۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کے جنگی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں جہازوں کی آمد و رفت ایرانی حکام سے پیشگی اجازت کے بعد ممکن ہوگی۔ یہ فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے لیا گیا ہے۔
ابراہیم رضائی نے مزید کہا کہ دوست ممالک کے جہاز ایرانی افواج کے ساتھ رابطے کے بعد گزر سکیں گے۔ آبنائے کے انتظام یا سلامتی میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ ایرانی پارلیمان آبنائے کی سلامتی سے متعلق مسودہ تیار کر رہی ہے۔
ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، ایران جنگ کے آغاز کے بعد پہلی کروزشپ نے آبنائے ہرمز عبور کر لی ہے۔ سیلیسٹیل ڈسکوری نامی کروز جہاز مسافروں کے بغیر سفر کر رہا تھا اور 47 دن تک دبئی کی بندرگاہ پر لنگرانداز رہا۔
واضح رہے کہ ایران عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے اہم اقدامات کر رہا ہے جس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔











