اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نیتن یاہو کی جارحیت؟

ایران نے مذاکرات کو لبنان میں جنگ بندی اور منجمد اثاثوں کی بحالی سے جوڑ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد مذاکرات واقعی امن کی طرف بڑھیں گے یا صرف جنگ کے اصل سبب کو چھیڑے بغیر سفارتی وقفہ ثابت ہوں گے؟

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نیتن یاہو کی جارحیت؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستانی لوک دانش  میں کسی الجھے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کےلیے ایک مثال دی جاتی ہے کہ اگر کنویں میں کتا گر جائے تو صرف ڈول نکالنے سے پانی صاف نہیں ہوتا، پہلے اس مردہ جسم کو نکالنا پڑتا ہے جو پورے کنویں کے پانی کو آلودہ کر رہا ہو۔

مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت جو سفارت کاری ہو رہی ہے، ایران بظاہر اسی منطق کے ساتھ اپنی سفارتی جنگ لڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی صرف وقتی سیز فائر یا چند روزہ خاموشی کافی نہیں، اس جنگ کی اس اصل وجہ کا سدباب ضروری ہے جو بار بار پورے خطے کو آگ میں دھکیل دیتی ہے۔ نیتن یاہو کے مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندانہ عزائم، غزہ میں جاری مظالم، اور وہ سوچ جو ہر سفارتی وقفے کو نئے حملے کی مہلت میں بدلتی آئی ہے، اسی وجہ سے آج تک خطے میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکا۔

اسی لیے اصل اہمیت اس سوال کی نہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا نہیں، بلکہ حقیقی سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کی اصل وجہ کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی یا صرف اس مسئلے کے کنوئیں میں سے مذاکرات کے ذریعے چند ڈول پانی نکالنے پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔

اسی نکتے کو سمجھنے کے لیے ایران کے حالیہ رویے کو لبنان کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ تہران نے مذاکرات کو اصولی طور پر رد نہیں کیا، مگر اسے لبنان میں جنگ بندی سے جوڑ دیا ہے۔ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ ایران۔امریکہ جنگ بندی کی شرائط “واضح اور دو ٹوک” ہیں اور امریکہ کو ایک فیصلہ کرنا ہوگا: یا وہ جنگ بندی کا انتخاب کرے، یا اسرائیل کے ذریعے جاری جنگ کو آگے بڑھائے، دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق دنیا لبنان میں ہونے والے قتل عام کو دیکھ رہی ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ یہ زبان محض احتجاج کی نہیں، ایک سفارتی مقدمہ ہے جس کے مطابق اگر جنگ بندی واقعی ہوئی ہے تو پھر لبنان کیوں جل رہا ہے؟

محمد باقر قالیباف کے تازہ بیان نے اس مؤقف کو اور بھی زیادہ واضح کر دیا ہے۔ اب اعتراض صرف یہ نہیں کہ امن مذاکرات کی طے شدہ اور قابلِ عمل بنیاد یعنی فریم ورک کی روح مجروح ہوئی ہے، بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ مذاکرات سے پہلے طے شدہ 2 بنیادی اقدامات اب تک پورے ہی نہیں ہوئے۔ قالیباف کے مطابق لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ان بنیادی اقدامات میں شامل ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ یہ دونوں امور پہلے نمٹنے چاہییں، اس کے بعد ہی بات چیت شروع ہو سکتی ہے۔ اس سے ایرانی پوزیشن کا رخ صاف دکھائی دیتا ہے کہ تہران مذاکرات سے انکار نہیں کر رہا، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ جس بنیاد پر مذاکرات ہونے ہیں، پہلے اسی قابلِ عمل بنیاد کو عملی طور پر تسلیم تو کیا جائے۔ یہی بات قالیباف پہلے بھی دوسرے لفظوں میں کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا تھا کہ لبنان اور پورا مزاحمتی محور سیز فائر کا “لازم حصہ” ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لبنان کے معاملے کو “واضح اور اعلانیہ” انداز میں سیز فائر شرائط کا لازمی جزو قرار دیا تھا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے بھی کل رات اسی موقف کو دہرایا تھا۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اسی جھگڑے کو ایک مختصر مگر کاٹ دار سوال میں سمیٹ دیا تھا کہ اگر لبنان کو سیز فائر سے الگ کرنا امریکہ کی ایک اور ابتدائی وعدہ شکنی نہیں تو پھر کیا ہے؟ اس جملے کی اہمیت یہ ہے کہ تہران پورے معاملے کو صرف اسرائیلی حملے کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ امریکی ضمانت، امریکی نیت اور امریکی ساکھ کے سوال کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہیں سے ایران کی حکمت عملی سمجھ آتی ہے۔ وہ مذاکرات کے دروازے کو بند نہیں کر رہا، مگر یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ دروازہ صرف ہرمز کھلوانے، مارکیٹ میں تناؤ کم کرنے اور امریکہ کو وقتی سہولت دینے کا ذریعہ بن جائے۔

اب دوسری طرف دیکھیں تو تصویر اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ جے ڈی وینس پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور روانگی سے پہلے انہوں نے ایک طرف یہ کہا کہ مذاکرات “مثبت” ہو سکتے ہیں، مگر دوسری طرف ایران کو یہ تنبیہ بھی کر دی کہ اگر اس نے امریکہ کے ساتھ “کھیل کھیلنے” کی کوشش کی تو امریکی مذاکراتی ٹیم اس پر نرمی اختیار نہیں کرے گی۔ اس ایک بیان میں واشنگٹن کی سفارتی حکمت عملی واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس میں مذاکرات کی کامیابی کی امید بھی ہے اور لہجے میں ایران کے لیے دھمکی بھی۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں ایران کہہ رہا ہے کہ پہلے طے شدہ نکات پر عمل ہو، پھر مذاکرات آگے بڑھیں۔

اصل مسئلہ یہی ہے۔ اگر اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے، امریکہ اس پر فیصلہ کن دباؤ نہ ڈالے، اور پھر بھی مذاکرات کو امن کا راستہ کہا جائے، تو یہ مذاکرات شاید فوٹو سیشن سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ یہ اس پوری جنگ کی اصل وجہ کا سدباب نہیں ہوگا۔ ایران اس وقت بظاہر یہی دکھانا چاہتا ہے کہ جنگ صرف میزائلوں سے نہیں چل رہی، اسے ایک سیاسی نظریہ بھی چلا رہا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے حالیہ پیغام میں بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ مذاکرات اور میدان دونوں ایک ہی بڑی کشمکش کے حصے ہیں، اور عوامی دباؤ خود مذاکرات کے نتائج پر اثر ڈالتا ہے۔

اسی لیے اگر اسلام آباد میں بات چیت ہو بھی جاتی ہے تو جب تک جنگ کے اصل سبب کو ختم نہیں کیا جاتا، یعنی نیتن یاہو کے توسیع پسندانہ عزائم اور جارحیت کے اس نظریے کو نہیں روکا جاتا جو ہر جنگ بندی کو عارضی وقفے میں بدل دیتا ہے، تب تک سفارتی رابطے، بیانات اور تاریخیں کنویں سے صرف ڈول بھر پانی نکالنے جیسے رہیں گے۔ خطے میں دیرپا امن تب ہی قائم ہوگا جب اس جنگ کے اصل سبب کو اس پانی میں سے نکالا جائے جو پورے کنویں کو خراب کر رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں