چین اور روس نے آبنائے ہرمز قرارداد کو ویٹو کر دیا

چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز قرارداد کو ویٹو کر دیا، جس سے بحران کا سفارتی حل مزید پیچیدہ ہو گیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چین اور روس نے آبنائے ہرمز قرارداد کو ویٹو کر دیا

نیو یارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ 15 رکنی کونسل میں 11 ارکان نے حمایت کی، مگر چین اور روس نے مخالفت میں ووٹ دے کر اسے روک دیا، جبکہ کولمبیا اور پاکستان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دلچسپی رکھنے والے ممالک کو دفاعی نوعیت کے تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔ مسودے میں تجارتی اور مال بردار جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے مشترکہ اقدامات کی بات بھی شامل تھی۔

اس متن میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے اور آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام کوششیں فوری طور پر بند کرے۔ ساتھ ہی شہری تنصیبات، پانی کے نظام، نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹس اور تیل و گیس کے ڈھانچے پر حملے روکنے کا بھی کہا گیا تھا۔

یہ مسودہ بحرین نے خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک، اردن اور دوسرے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔ یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی جب 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور سلامتی کونسل پہلے ہی غزہ، لبنان اور شام پر اس کے اثرات پر بریفنگ لے چکی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی رسد کے لیے ایک مرکزی سمندری راستہ ہے، اور اس میں رکاوٹ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ چین اور روس کے ویٹو کے بعد اب اس بحران کا سفارتی حل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں