یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل پر پہلا میزائل حملہ کیا، جسے اسرائیل نے روک لیا۔ یہ حملہ خطے میں جنگ کی نئی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
یمن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے اسرائیل پر اپنے پہلے میزائل حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ حوثیوں کے مطابق یہ بیلسٹک میزائل حملہ اسرائیلی فوجی اہداف پر کیا گیا، جسے اسرائیل نے راستے میں روک لیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب 28 فروری 2026 سے جاری امریکا۔اسرائیل جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حوثیوں کے اس اعلان سے خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اب جنگ ایک نئے محاذ میں داخل ہو رہی ہے۔
خطے کے مبصرین کے مطابق حوثیوں کے پاس اصل دباؤ کا پوائنٹ آبنائے باب المندب (Bab al-Mandeb Strait) ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اگر حوثی باب المندب پر بھی پابندی لگاتے ہیں تو اسرائیل اور عالمی تجارت دونوں پر معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
تاحال بحری آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں کی گئی اور جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے۔ تاہم حوثی عہدیداروں اور علاقائی رپورٹوں کے مطابق اگر حدیدہ بندرگاہ یا یمن کے شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اگلے مرحلے میں بحری دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے یمن سے اسرائیل کی طرف پہلا اعلان شدہ حملہ صرف عسکری نہیں بلکہ بڑے معاشی اور تزویراتی اثرات کا بھی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔











