ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا، ایران نے تردید کی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نمائندے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیو یس(Axios) کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 2 دن میں ہونے والی تعمیری بات چیت کے بعد ایران کے بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر ممکنہ امریکی حملے 5 دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
ایکسیو یس(Axios) کی رپورٹ میں ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مصر، پاکستان اور ترکی نے اتوار کے روز امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کیا، جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک اسلام آباد میں ایک ممکنہ ملاقات کے امکانات پر بھی کام کر رہے ہیں۔
تاہم محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا بیان میں امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام جارحین کو مکمل اور پشیمان کن سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور تمام ایرانی حکام اپنے سپریم لیڈر اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ قالیباف نے اپنے دوسرے بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، اور جھوٹی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے اور امریکا و اسرائیل کو درپیش بحران سے نکلنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں ایرانی شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ وہ اس کی شناخت سامنے نہیں لانا چاہتے کیونکہ اس سے اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے، یورینیم افزودگی نہ کرنے، اپنے موجودہ ذخائر حوالے کرنے، میزائل سرگرمی محدود رکھنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم تہران نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے کہا کہ پیر کے روز قالیباف اور امریکی ٹیم کے درمیان فون رابطہ کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی، اور اگر یہ رابطہ ہوتا ہے تو اسی سے ممکنہ بالمشافہ ملاقات کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق دونوں جانب سے بات چیت شروع کرنے میں آمادگی دیکھی گئی، کیونکہ تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں بے چینی نے سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی گفتگو کا لہجہ مثبت رہا، اسی بنیاد پر محکمہ جنگ کو ہدایت دی گئی کہ ایران کی توانائی تنصیبات کے خلاف فوجی کارروائی 5 دن کے لیے روک دی جائے۔ ان کے مطابق اگر یہ رابطے نتیجہ خیز ثابت ہوئے تو یہ نہ صرف موجودہ جنگی کشیدگی کم کرنے بلکہ خطے میں طویل مدتی استحکام کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب قالیباف کے بیانات نے واضح کر دیا ہے کہ تہران کم از کم عوامی سطح پر کسی بھی امریکی مذاکراتی دعوے سے اتفاق نہیں کر رہا۔
واضح رہے کہ یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کے بحران، توانائی رسد کے خدشات اور امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا، جبکہ ایران اور خطے کے دیگر فریق توانائی تنصیبات پر حملوں کے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ایکسیو یس(Axios) کے مطابق ٹرمپ کے حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک فیوچرز میں بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی بیانات اب بھی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ تعمیری بات چیت کے بعد ایران کے بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر ممکنہ امریکی حملے 5 دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں ایرانی شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی مذاکراتی پیغامات موصول ہوئے تھے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے ان پیغامات کا جواب اپنے اصولی موقف کے مطابق دیا۔ انہوں نے کہا کہ جواب میں واضح کیا گیا کہ ایران کے اہم ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش پر ایرانی مسلح افواج فوری، فیصلہ کن اور مؤثر ردعمل دیں گی۔ ان کے مطابق یہ پیغام متعلقہ ذرائع تک پہنچا دیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ گزشتہ 24 دن کے دوران امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے کی شرائط سے متعلق ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے بھی کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس دوران، واشنگٹن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کئی اعلیٰ شخصیات کے مارے جانے کے بعد تہران میں اصل فیصلہ سازی کس سطح پر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی گفتگو کا لہجہ مثبت رہا ہے، اسی بنیاد پر ایران کی توانائی تنصیبات کے خلاف فوجی کارروائی 5 دن کے لیے روک دی گئی ہے۔











