کیا ایران جنگ ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے جڑی ہے؟ امریکی وزیر دفاع کا پرانا متنازع بیان سامنے آگیا

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی یروشلم میں ہیکل کی ممکنہ تعمیر سے متعلق پرانی تقریر دوبارہ سامنے آنے کے بعد ایران جنگ کے مذہبی پہلوؤں پر نئی بحث شروع ہوگئی۔ تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ تنازع صرف علاقائی جنگ ہے یا اس کے پس منظر میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر جیسے مذہبی نظریات بھی شامل ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران جنگ کے مذہبی پہلو پر نئی بحث کا آغاز

یروشلم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کیا ایران کے خلاف جاری جنگ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کے لیے کسی بڑے مرحلے کا نکتہ آغاز ہے؟ کیا یہ صرف ایک علاقائی عسکری تصادم ہے یا اس کے پس منظر میں مذہبی نظریات بھی کارفرما ہیں؟ اور کیا اسرائیل اور امریکا اس بحران کی آڑ میں یروشلم میں موجود قبۃ الصخرہ کو گرا کر ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں؟ ان سوالات نے اس وقت نئی بحث کو جنم دیا جب امریکہ کے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایک پرانی تقریر دوبارہ منظر عام پر آئی جس میں انہوں نے ٹیمپل ماؤنٹ پر ہیکل کی ممکنہ دوبارہ تعمیر کا ذکر کیا تھا۔

امریکہ کے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی 2018 میں یروشلم میں دی گئی تقریر اس بحث کا مرکزی حوالہ بن گئی ہے۔ ایک ویڈیو میں پیٹ ہیگستھ کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ یروشلم میں ٹیمپل ماؤنٹ کے مقام پر کھڑے ہو کر انسان کو کئی تاریخی “معجزات” یاد آتے ہیں اور جس طرح 1917، 1948 اور 1967 کے واقعات کو معجزہ سمجھا جاتا ہے اسی طرح ٹیمپل ماؤنٹ پر ہیکل کی دوبارہ تعمیر بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ 

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ 1917 میں برطانوی فوج کے یروشلم میں داخلے، 1948 میں اسرائیل کے قیام اور 1967 کی جنگ میں یروشلم پر اسرائیلی کنٹرول کو کئی لوگ تاریخی معجزات قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تاریخ میں ایسے واقعات ممکن ہوئے ہیں تو ٹیمپل ماؤنٹ پر ہیکل کی دوبارہ تعمیر کا تصور بھی خارج از امکان نہیں۔ 

 92 نیوز کے پروگرام “مقابل” میں سینئر صحافی عامر متین نے حالیہ نشریات میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے نظریے، یروشلم کے مذہبی پس منظر اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے ممکنہ مذہبی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروگرام میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ بعض مذہبی حلقوں کے نزدیک یروشلم میں بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر ایک صیہونی مذہبی پیش گوئی سے جوڑی جاتی ہے اور یہی تصور بعض حلقوں میں سیاسی مباحث کا حصہ بن چکا ہے۔

 اگرچہ موجودہ امریکی سیکرٹری دفاع کا یہ بیان جنگ سے قریبا سات سال پہلے دیا گیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اس کا دوبارہ زیر بحث آنا اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ صرف جغرافیائی یا عسکری تنازع ہے یا اس کے پیچھے مذہبی نظریات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یروشلم کا مذہبی اور تاریخی پس منظر

یروشلم کا علاقہ دنیا کے حساس ترین مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہودی روایت کے مطابق ٹیمپل ماؤنٹ وہ مقام ہے جہاں حضرت سلیمان کا پہلا ہیکل تعمیر کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے تباہ کر دیا گیا اور رومی سلطنت کے دور میں دوسرا ہیکل بھی 70 عیسوی میں مسمار کر دیا گیا۔

اسلامی روایت کے مطابق اسی مقام پر مسجد الاقصیٰ اور قبۃ الصخرہ موجود ہیں جو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ مقام اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی حساس حیثیت رکھتا ہے۔

تیسرا ہیکل اور مذہبی نظریات

بعض مذہبی حلقوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں اسی مقام پر “تیسرا ہیکل” تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تصور صدیوں سے مذہبی اور تاریخی مباحث کا حصہ رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بعض مذہبی اور سیاسی شخصیات کے بیانات نے اس موضوع کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

امریکہ میں ایک عیسائی مبلغ پاسٹر گریگ لاک نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ یروشلم میں موجود قبۃ الصخرہ کو ہٹا کر اس مقام پر تیسرا ہیکل تعمیر کیا جانا چاہیے۔ 

ان کے اس بیان نے اس وقت بھی عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا تھا اور اب ایران جنگ کے تناظر میں اسے دوبارہ زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

ارجنٹینا کے صدر کا بیان

اسی موضوع پر ایک اور بیان ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی کا بھی سامنے آیا تھا۔

یروشلم کے دورے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر خوشی محسوس کرتے ہیں جس کے مطابق مستقبل میں ہیکل دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ 

مبصرین کے مطابق ان کے اس بیان کو بھی بعض حلقے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور مذہبی نظریات کے درمیان تعلق کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہودی ربی کا متنازع بیان

اسی تناظر میں ایک اسرائیلی یہودی ربی جوزف مزراچی کا بیان بھی زیر بحث آیا ہے۔

ایک ویڈیو بیان میں ربی مزراچی نے کہا تھا کہ اگر یروشلم میں موجود قبۃ الصخرہ یا مسجد الاقصیٰ کو نشانہ بنایا جائے اور اس کا الزام ایران پر ڈال دیا جائے تو عرب ممالک ایران کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے اور عرب ممالک ایران کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں۔

اس بیان نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا اور کئی مبصرین نے اسے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں مذہبی عوامل کے ممکنہ کردار کے طور پر دیکھا۔

اسرائیلی فوجی وردی کے نشان اور بحث

اسی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی زیر گردش رہی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کی وردی پر ایسے نشانات دکھائے گئے جنہیں بعض مبصرین مذہبی علامتوں سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ویڈیو میں فوجی کی یونیفارم پر مختلف نشان دیکھے جا سکتے ہیں جو قدیم ہیکل سلیمانی یا مذہبی علامت سے جڑی ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اسرائیلی فوج کی وردیوں پر مختلف یونٹ اور تاریخی علامتوں کے پیچ عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، تاہم اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہو گئی کہ آیا بعض فوجی حلقوں میں مذہبی نظریات کو بھی علامتی طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران جنگ اور عالمی سیاست

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اب صرف ایک علاقائی تنازع نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایک طرف جبکہ ایران کے ساتھ چین اور روس کے تعلقات بھی اس تنازع میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بعض مبصرین اسے بڑی طاقتوں کے درمیان بالواسطہ مقابلہ قرار دیتے ہیں۔

مذہبی حساسیت اور خدشات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس جنگ کو مذہبی رنگ دیا گیا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً 2 ارب مسلمان، ڈھائی ارب عیسائی اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ یہودی آباد ہیں۔

اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مذہبی بیانیے میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مذہبی تعلقات اور بین المذاہب تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے کئی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس تنازع کو مذہبی بیانیے سے دور رکھتے ہوئے سفارتی اور سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

عالمی مباحث اور پوڈکاسٹ گفتگو

امریکہ میں اس موضوع پر حالیہ دنوں ایک تفصیلی ویڈیو گفتگو بھی سامنے آئی ہے۔ معروف امریکی میزبان ٹکر کارلسن نے اپنے پوڈکاسٹ میں یروشلم کے مذہبی مقامات، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے نظریات اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے ممکنہ مذہبی پہلوؤں پر مفصل بحث کی۔

 

دیگر متعلقہ خبریں