کراچی میں جماعت اسلامی نے احتجاج ختم کرتے ہوئے کل شہر کے 10 مقامات پر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر جاری احتجاج ختم کرتے ہوئے کل شہر کے 10 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس اور کارکنان کے درمیان جھڑپوں کے بعد کئی افراد زخمی ہوئے اور متعدد کو حراست میں لیا گیا۔
جماعت اسلامی نے اتوار کو شاہراہ فیصل، سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے، گلشن اقبال، نرسری، لانڈھی اور کورنگی سمیت شہر کے 10 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔
جھڑپوں کے دوران شیلنگ، پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے 10 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کو سندھ اسمبلی آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے پتھراؤ کیا۔
امیر جماعت اسلامی منعم ظفر نے کہا کہ ہم شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلے تھے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی پورا ملک دیکھ رہا ہے، اور اہل کراچی اپنا حق لے کر رہیں گے۔















