امریکہ نے بلوچستان میں ریکوڈک تانبہ اور سونا کان کنی منصوبے کے لیے 1.3 ارب ڈالر مختص کیے ہیں، جس سے معدنی شعبے میں نمایاں ترقی متوقع ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکہ نے بلوچستان میں ریکوڈک تانبہ اور سونا کان کنی منصوبے کے لیے 1.3 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان اور کینیڈین کمپنی کے اشتراک سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ کمرشل پیداوار 2028 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
ریکوڈک منصوبہ عالمی سطح پر معدنی وسائل کے اہم منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جو پاکستان کے معدنی شعبے کو نمایاں ترقی دے سکتا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اس وقت قومی پیداوار میں تقریباً 3.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ عالمی معدنی برآمدات میں حصہ صرف 0.1 فیصد ہے۔
پاکستان میں 92 اقسام کے معدنیات دریافت ہو چکے ہیں، جن میں سے 52 تجارتی بنیادوں پر نکالے جا رہے ہیں۔ معدنی پیداوار کا سالانہ حجم 68.52 ملین میٹرک ٹن ہے، جس سے 300,000 سے زائد افراد کو روزگار ملتا ہے۔
امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے کریٹیکل منرلز پورٹ فولیو 2026 کے تحت اس منصوبے کے لیے فنڈنگ رکھی گئی ہے، جس کا مقصد اسٹریٹجک معدنی ذخائر قائم کر کے سپلائی چین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعارف کرائے گئے ’’پروجیکٹ والٹ‘‘ کا مقصد اہم معدنیات کے لیے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنا ہے تاکہ امریکی صنعت کو سپلائی جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔














