برازیلی خاتون کا ایئرلائن اور ویڈیو بنانے والے پر مقدمہ

برازیلی خاتون نے ایئرلائن اور ویڈیو بنانے والے پر قانونی کارروائی شروع کردی، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ذہنی دباوٴ کا سامنا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

بیلو ہوریزونٹے: (رائیٹ ناوٴ نیوز)برازیل کی 29 سالہ بینک ملازمہ جینیفر کاسٹرو نے اس ایئرلائن اور اس مسافر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جس نے ان کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی۔ یہ واقعہ دسمبر 2024 میں پیش آیا تھا جب کاسٹرو نے اپنی پہلے سے منتخب کی گئی کھڑکی والی نشست روتے ہوئے بچے کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔

کاسٹرو کے مطابق وہ پرواز میں سوار ہوئیں تو بچے کو اپنی مقررہ نشست پر بیٹھا پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے سے نشست منتخب کر رکھی تھی، اس لیے بچے کے کسی اور نشست پر منتقل ہونے کے بعد وہ اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔ اسی دوران ایک دوسرے مسافر نے ان کی ویڈیو بنانا شروع کر دی، جسے بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کاسٹرو کو شدید عوامی تنقید، آن لائن حملوں اور ذاتی و پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کی ذہنی صحت اور ملازمت دونوں کو متاثر کیا، حتیٰ کہ وہ بینکنگ کے شعبے سے الگ ہو گئیں۔ تاہم اسی دوران ان کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد بڑھ کر 21 لاکھ تک پہنچ گئی اور انہیں بطور انفلوئنسر مختلف برانڈ معاہدے بھی ملے۔

جینیفر کاسٹرو نے بتایا کہ انہوں نے گول ایئرلائنز کے خلاف ہرجانے اور ذہنی اذیت کے ازالے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے، جبکہ ویڈیو بنانے والے مسافر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے۔ عدالتی رازداری کے باعث انہوں نے ہرجانے کی رقم ظاہر نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں عوامی تذلیل اور اجازت کے بغیر ویڈیو بنانے جیسے واقعات کی روک تھام ہے۔

واضح رہے کہ کاسٹرو نے اس معاملے میں بچے کی والدہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہر فرد کو اپنے قانونی حق کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور “نہ” کہنے کو بدتمیزی یا خود غرضی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

دیگر متعلقہ خبریں