اسلام آباد ہائیکورٹ نے فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے، ممکنہ سیلنگ کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے پر اسلام آباد انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی اور سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اور ایم سی آئی کو نوٹس جاری کیے۔
درخواست گزار نوید عاشق کے وکیل افراسیاب نے عدالت کو بتایا کہ پمز اسپتال میں آگ لگنے سے شیرخوار بچے جل گئے، جبکہ اسپتال کے پاس فائر ڈیپارٹمنٹ کی این او سی بھی موجود نہیں تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی عمارتیں بغیر فائر این او سی کے چل رہی ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہر کی عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستے اور فائر الارم تک موجود نہیں ہیں۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ 2010ء کے فائر سیفٹی ریگولیشنز پر عملدرآمد کا حکم دیا جائے اور تمام عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کروایا جائے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ بغیر فائر این او سی کام کرنے والی عمارتوں کو فوری سیل کیا جائے۔ غیر قانونی عمارتوں کی مانیٹرنگ کے لیے انسپکشن سسٹم قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ فائر سیفٹی قوانین کا نفاذ عوامی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں جہاں حادثات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔














