مصطفیٰ کمال نے سندھ میں آلودہ پانی کے بحران پر تشویش ظاہر کی ہے، جس سے 80 فیصد آبادی متاثر ہورہی ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے بتایا ہے کہ سندھ کی 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی صورتحال کے باعث 80 فیصد بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔
انہوں نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ صوبے میں پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ کیئر کی اہمیت پر بھی زور دیا اور مریضوں کی تکلیف کو کم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ طبی عملے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں کی تکلیف کو کم کرے، جس کے بدلے اللہ انہیں اجر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاج کی سہولت نہ ملنے پر اللہ کی ناراضگی کا خدشہ ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ جہاں سیکنڈری ہسپتال بننے جا رہا ہے، وہاں قبضے کا خطرہ تھا۔ اب یہ جگہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرے گی۔
یاد رہے کہ سندھ میں بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے یونٹس سے انتظام بہتر کیا جا سکتا ہے۔














