پرتگال میں نقاب پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا ہے، جس سے مسلمان خواتین متاثر ہوسکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر تنقید کر رہی ہیں۔
لزبن: (رائیٹ ناؤنیوز) پرتگال میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی کا قانون نافذ ہوچکا ہے۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون نافذ ہوا، جسے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے حمایت دی۔
نئے قانون کے تحت نقاب کرنے والی خواتین پر 150 سے 3 ہزار یورو جرمانہ ہوسکتا ہے۔ یہ قانون خاص طور پر مسلمان خواتین کو متاثر کرتا ہے، جو مکمل نقاب کرتی ہیں۔
حکومت نے اس قانون کو عوامی سلامتی کا معاملہ قرار دیا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔
یہ قانون پرتگال کے معاشرتی ڈھانچے پر اثر ڈالے گا۔ مسلمان کمیونٹی کے حقوق پر اس کے ممکنہ اثرات پر غور جاری ہے۔
یاد رہے کہ نقاب پر پابندی کا قانون یورپ کے دیگر ممالک میں بھی متنازع رہا ہے۔ فرانس اور بیلجیئم میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں۔













