امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی کے دوران 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا ہے۔ امریکی فورسز نے دو جہازوں کو ناکارہ بنایا اور دو دیگر پر سوار ہو کر کارروائی کی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ امریکی اہلکار خطے میں تعینات جنگی بحری جہازوں کے ذریعے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
کمانڈ نے کہا ہے کہ یو ایس ایس راس سمیت 20 سے زائد جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مشنز میں شامل ہیں۔ بحری کارروائیوں کا مقصد ایران کے خلاف ناکہ بندی کو مؤثر بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر سمندری راستوں کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں کو سکیورٹی خطرات اور اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔















