ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں مصر کی ممکنہ شمولیت؛ خطے کی سلامتی کے لیے اہم پیش رفت۔
مکہ مکرمہ: (رائیٹ ناؤنیوز) ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر بھی ممکنہ طور پر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
ہاکان فیدان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد خطے کے دیگر ممالک کو بھی شامل کرے۔ انہوں نے بتایا کہ تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد مصر اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے اور کسی مسلح حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کی یقین دہانی کرانا ہے۔
ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے علاقائی معاملات کے لیے ‘آر فور’ گروپ تشکیل دیا ہے۔ اس کا مقصد شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔ ترکیہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کی بھی امید ظاہر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر بنایا گیا ہے، جس کا مقصد تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے عمومی تعاون ہے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 سال 8 ماہ کی کوششیں کی گئیں۔













