بھارت کی جانب سے فلڈ ڈیٹا کی بندش، پاکستان میں جدید مانیٹرنگ نظام کی تجویز

سینیٹ کمیٹی نے بھارت سے فلڈ ڈیٹا کی بندش کے بعد پاکستان میں جدید مانیٹرنگ نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بھارت کی جانب سے فلڈ ڈیٹا کی بندش، پاکستان میں جدید مانیٹرنگ نظام کی تجویز

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) سینیٹ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے فلڈ ڈیٹا کی فراہمی بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے دریاؤں کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ سیلابی صورتحال بارشوں کا نتیجہ ہے، دریائے چناب کے کچھ مقامات پر ہائی فلڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ تربیلا اور چشمہ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ بیشتر مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

حکام نے پیش گوئی کی ہے کہ 18 سے 25 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ گلشیئر جھیل پھٹنے اور فلیش فلڈز کے خطرات بھی موجود ہیں، جس کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت سے فلڈ ڈیٹا نہیں مل رہا۔ این ڈی ایم اے نے گلشیئرز کی مانیٹرنگ کے لیے جدید ڈیش بورڈ قائم کر رکھا ہے اور بروقت وارننگ جاری کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر چیئرمین کمیٹی نے مؤثر نظام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے سیکریٹریز اریگیشن کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں