وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی نوکری دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو متبادل ملازمت فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
پشاور: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی ملازمت دینے کے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کی۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کا کام دینا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی کہ شکایت کنندہ کو کسی دوسری جگہ ملازمت فراہم کی جائے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سوئیپر کی کوئی خالی آسامی نہیں ہے۔ جسٹس رضوی نے کہا کہ کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ہے کہ سوئیپر کی ضرورت نہیں۔
جسٹس رضوی نے مزید کہا کہ ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام کرانا نظام کی ناکامی ہے۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ ایک ایم اے پاس شخص کے سوئیپر کی ملازمت کے خلاف دائر اپیل سے متعلق تھا۔ عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی کہ مناسب اقدام کریں۔














