ایف بی آر میں 323 ارب کی ٹیکس بے ضابطگیاں، داخلی کنٹرول میں خامیاں

ایف بی آر میں 323 ارب روپے کی ٹیکس بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں داخلی کنٹرول کی خامیوں کی نشاندہی اور محصولات کی کم وصولی کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایف بی آر میں 323 ارب کی ٹیکس بے ضابطگیاں، داخلی کنٹرول میں خامیاں

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز نے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں یہ نشاندہی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیوں کی ریکوری 323 ارب 34 کروڑ روپے بنتی ہے، جبکہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران صرف 43 ارب روپے وصول ہو سکے۔ اس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات شامل ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کا داخلی کنٹرول نظام کمزور ہے۔ محصولات کی کم رپورٹنگ اور دیگر بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

یہ بے ضابطگیاں نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں بلکہ ایف بی آر کے نظام کی مؤثریت پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔ حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ ایف بی آر پر پہلے بھی داخلی کنٹرول کی خامیوں کے باعث تنقید ہوتی رہی ہے، جس کے باعث محصولات کی وصولی میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں