ماہرین نے دل کی بیماریوں کی بڑھتی شرح کے پیش نظر بلڈ پریشر کی نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان میں 38.6 ملین افراد ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) ماہرینِ امراضِ قلب نے زور دیا ہے کہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی باقاعدگی سے نگرانی کر کے دل کی بیماریوں کو روکا جا سکتا ہے۔ جدید تکنیکوں کی مدد سے ان بیماریوں کا علاج ممکن ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر راجکمار سچدوانی نے پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی کانفرنس میں کہا کہ دل کی بیماریاں موت کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید علاج نے دل کے مریضوں کی عمر بڑھا دی ہے۔
ڈاکٹر سچدوانی نے زور دیا کہ دل کے مریضوں کو اپنی خوراک، وزن اور ورزش پر توجہ دینی چاہیے۔ وزن کو کنٹرول کرنے کے لئے جدید ادویات دستیاب ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں دل کی بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان میں 38.6 ملین بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ جی رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں دل کی بیماریوں کی وجہ سے اموات کی شرح دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ 2020 میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد کورونری ہارٹ ڈیزیز کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔














