وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو فوری کھولنے کی درخواست مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو فوری کھولنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت کی نظرثانی کی حمایت کی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو فوری کھولنے سے روک دیا، حکومت کی نظرثانی کی حمایت

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کو فوری کھولنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست پر سماعت میں وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ کے مسمار کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مطابق جانوروں کے حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔ عدالت نے مونال کی لیز کا کیس سول کورٹ میں زیرالتواء ہونے کی نشاندہی کی۔

وکیل مونال نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تمام زیرالتواء کیسز کو نمٹانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس حسن رضوی نے سوال اٹھایا کہ متعلقہ فریقین کو سپریم کورٹ میں کیوں نہیں سنا گیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آیا ہے۔ تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔

واضح رہے کہ مونال ریسٹورنٹ کی بندش کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے متنازعہ رہا ہے۔ کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں