آئی ایم ایف کی سخت پابندیاں، پاکستان کا ترقیاتی بجٹ متاثر، 528 ارب روپے ہی خرچ ہو سکے۔ 10 کھرب کے منصوبے ادھورے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط کے باعث پاکستان کا ترقیاتی بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک ہزار ارب روپے کے مختص کردہ بجٹ میں سے صرف 528 ارب روپے خرچ ہو سکے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اینوئل پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ادھورے منصوبوں کی لاگت 10 کھرب تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے سرمایہ کاری کا حجم 0.6 فیصد تک محدود ہو چکا ہے۔
احسن اقبال نے اجلاس میں کہا کہ 5 ہزار ارب کے منصوبے پی سی ون کے مراحل میں ہیں۔ جبکہ مجموعی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مالی سال 2018 کے بعد سے ترقیاتی بجٹ کے لیے وسائل کی کمی کا رجحان جاری ہے۔ تاہم، صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے جس سے کچھ کام جاری ہیں۔
یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے وزارتوں نے 3 ہزار ارب روپے کا بجٹ مطالبہ کیا تھا۔ مگر وفاقی ترقیاتی پروگرام بدستور 2018 کی سطح پر یعنی ایک ہزار ارب روپے پر ہی کھڑا ہے۔















