پیٹرولیم فارمولے کی نظرثانی کے باوجود عوام پر مالی بوجھ

پیٹرولیم قیمتوں کے فارمولے کی نظرثانی کے باوجود ریفائنریز کو منافع جبکہ عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پیٹرولیم فارمولے کی نظرثانی کے باوجود عوام پر بوجھ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کے باوجود عوام پر مالی بوجھ برقرار ہے۔ حکومت نے قیمتوں کے فارمولے میں نظرثانی کی تھی مگر اس کا اثر صارفین تک نہیں پہنچ سکا۔

مارچ اور اپریل 2026 میں ریفائنریز کو غیر معمولی منافع ہوا جبکہ صارفین کو قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں وسیع فرق سے ریفائنریز کو فائدہ پہنچا، جس پر ریگولیٹری مداخلت کے موثر ہونے پر سوالات اٹھے ہیں۔

عوامی شکایات کے بعد حکومت نے عارضی طور پر کاسٹ پلس (Cost-Plus) پرائسنگ فارمولہ متعارف کرایا۔ لیکن اس نظرثانی شدہ فارمولے سے بھی ڈیزل کی قیمت میں پوری طرح کمی نہ آ سکی اور فرق برقرار رہا۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں ریفائنریز کو بین الاقوامی بینچ مارکس کی بنیاد پر منافع ملتا ہے۔ اس کے باعث عوام پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ ریفائنریز کو منافع ہوتا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کو اپریل کے آغاز میں قیمت کے اس تضاد کی خبر دی گئی تھی، لیکن میڈیا میں معاملہ آنے تک اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ منافع کی ریکوری کی جائے اور صارفین پر بوجھ کم کیا جائے۔

دیگر متعلقہ خبریں