فضائی برتری کی دوڑ، امریکا چین روس طیاروں میں سخت مقابلہ

امریکا، چین اور روس کے جدید لڑاکا طیارے عالمی فضائی برتری کی دوڑ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکا، چین اور روس کے لڑاکا طیارے: عالمی فضائی مقابلہ

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ دنیا بھر میں فضائی برتری کے لیے امریکا، چین اور روس نے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ طیارے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام سے لیس ہیں۔

امریکا کے ایف-35 اور ایف-22 طیارے میدان جنگ میں کمانڈ سینٹر کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایف-22 اپنی رفتار اور ریڈار سے اوجھل رہنے کی صلاحیت کے باعث فضائی برتری کا بے تاج بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔

چین کے جے-20 اور روس کے ایس یو-57 طیارے بھی اس عالمی مقابلے میں شامل ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے اور دشمن کے اثاثوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فضائی برتری کی دوڑ میں ترکیہ اور جنوبی کوریا بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہ ممالک جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فضائی برتری اب روایتی طاقت کے بجائے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور جدید سینسرز پر مبنی جنگی نظام کی مضبوطی پر منحصر ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں