پاکستان نے آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی امن و ترقی پذیر ممالک پر خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران سفارت کاری اور بحری تعاون کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی بحری راستوں میں رکاوٹ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، بین الاقوامی امن اور ترقی پذیر ممالک کے لئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحری سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سمندری راستوں کا تحفظ تجارت اور وسیع تر ترقیاتی و سلامتی کے اہداف کے لئے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بحری علاقے اکیسویں صدی کے اہم جغرافیائی و سٹریٹجک میدان ہیں۔ یہ سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں جبکہ جدید معیشتیں بلا تعطل بحری تجارت پر انحصار کرتی ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹ کو بحری عدم استحکام کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں خوراک اور توانائی کی سلامتی پر اثرات اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر جیسے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور امریکا اور ایران کے معاملات میں استحکام لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان موجودہ بحران کے حل کے لیے ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے۔















